Express News:
2026-06-03@05:43:06 GMT

ایس 400

اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT

پاکستان نے 10مئی کی صبح بھارت پر حملہ شروع کیا‘ ایس 400 اس حملے کا خصوصی ہدف تھا‘ یہ دنیا کا مضبوط ترین ڈیفنس سسٹم ہے‘ روس نے 1993 میں بنایا اور اس وقت چین سمیت بے شمار ملک استعمال کر رہے ہیں‘ بھارت کے پاس اس وقت تین ایس 400 ہیں جب کہ دو انھیں چند ماہ میں ڈیلیور ہو جائیں گے‘ ان میں سے ایک چین کی سرحد پر نصب ہے جب کہ دو پاکستان کی سرحد پر ہیں‘ ایک آدم پور اور دوسرا بھوج میں تھا‘ اس سے چاروں طرف چار سو کلومیٹر اور فضا میں لاکھ فٹ تک کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی‘ یہ ایک وقت میں تین سو ٹارگٹس کو ٹریک کر سکتا ہے اور 36 ٹارگٹس ایک سیکنڈ میں تباہ کر سکتا ہے‘ ایس 400 پورا سسٹم ہے۔

 اس کے اندرلانگ رینج ملٹی ٹارگٹ زمین سے فضا تک مار کرنے والے میزائل ہوتے ہیں‘ اپنا ریڈار سسٹم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ درجنوں دیگر چیزیں ہوتی ہیں‘ یہ پورا سسٹم اہم ہے لیکن اس کا مغز اس کے نیچے موجود اس کے کمپیوٹر ہیں‘ اس کی ٹنلز اور ریڈار ختم ہو جائے تو اس کا زیادہ نقصان نہیں ہوتا‘ اس کا اصل نقصان اس کا مغز اڑانا ہے اور پاکستان نے 10مئی کی صبح یہ اڑا دیا‘ ایسے ڈیفنس سسٹم کو ٹریس کرنا پہلا چیلنج ہوتا ہے‘ انڈیا آدم پور میں اسے روزانہ ٹرکوں میں لاد کر مختلف مقامات پر شفٹ کرتا رہتا تھا‘ یہ صبح اسے لے جاتا تھا اور رات کے وقت خفیہ طریقے سے اسے واپس لے آتا تھا‘ پاکستان اس چال سے واقف ہو گیا‘ دوسرا ہم یہ جانتے تھے ہم اگر ایس 400 کے ریڈار پر ٹریفک زیادہ کر دیں تو یہ کنفیوژ ہو جائے گا اور اس کنفیوژن کا فائدہ اٹھا کر ہم اسے اڑا دیں گے اور پاکستان نے اس پر ڈرونز اور میزائلوں کی بوچھاڑ کر کے اسے پہلے کنفیوژ کیا اور پھر اڑا دیا‘ یہ بھارت کا بڑا نقصان تھا‘ پاکستان سے آج بھی نیٹو کی ریسرچ ٹیم دو سوال کرتی ہے۔

 تم نے ایس 400 کو ٹریس کیسے کیا تھا اور پھرتباہ کیسے کیا تھا؟ رافیل کی طرح یہ بھی دنیا میں پہلی مرتبہ تباہ ہوا تھا یوں پاکستان نے سات مئی سے لے کر 10 مئی تک تین دنوں میں تین بڑے ملکوں کی وار ٹیکنالوجیز کا جلوس نکال دیا‘ فرانس کا رافیل‘ اسرائیل کے ہاروپ ڈرونز اور روس کا ایس 400 اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے الیکٹرک وار فیئر میں بھی نئی تاریخ رقم کر دی‘ پاکستان نے انڈیا کا بجلی سسٹم ہیک کر لیا تھا اور یہ اس کے ذریعے ڈیمز کے سپل ویز کھول دیتا تھا اور پوری پوری ریاست کی بجلی بند کر دیتا تھا‘ پاکستان نے ایک وقت میں 70 فیصد انڈیا میں بلیک آؤٹ کر دیا‘ ان کا ڈیفنس کمیونی کیشن سسٹم بھی ہیک ہو گیا‘ یہ لوگ کس وقت کیا کر رہے ہیں۔

 پاکستان کو یہ تک معلوم تھا‘ انڈیا کا جی پی ایس بھی کنٹرول کر لیا گیا تھا‘ ان کے پائلٹس کے فون بھی ہیک ہو گئے تھے‘ مثلاً پاکستان کو سات مئی کے حملے کی لیڈ ان کے ایک پائلٹ کے ذریعے ملی تھی‘ پائلٹ کی گرل فرینڈ کا فون ہیکڈ تھا‘ وہ اس سے بار بار پوچھ رہی تھی ’’تم کب آؤ گے؟‘‘ چھ مئی کی شام اس نے اسے بتایا بس آج کی رات میرا کام مکمل ہو جائے گا اور میں کل آپریشن کے بعد چھٹی لے کر آ جاؤں گا‘ اس ایک فقرے نے پاکستان کو بتا دیا آج رات رافیل بھی آ رہے ہیں اور حملہ بھی ہو رہا ہے لہٰذا جب حملہ ہوا تو پاکستانی پائلٹس پہلے سے تیار تھے اور انھوں نے ایک ہی ہلے میں انڈیا کے سات طیارے گرا دیے‘ پاکستان نے انڈین پائلٹس کی کمیونی کیشن بھی ہیک کر لی تھی‘ اسلام آباد میں ان کی تمام گفتگو سنی اور ریکارڈ کی جا رہی تھی‘ ان کا ریڈار‘ سیٹلائیٹ اور آپس کا رابطہ بھی کاٹ دیا گیا اور آخر میں دس مئی کو برنالہ میں بھارتی ائیر فورس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی تباہ کر دیا گیا اور یہ بھارت کا ایس 400 کے بعد بڑا نقصان تھا۔

بھارت نے آٹھ اور 9 مئی کو پاکستان پر براہموس داغنا شروع کر دیے تھے‘ پاکستان نے یہ بھی ہیک کر لیے چناں چہ آدھے سے زیادہ براہموس انڈین پنجاب میں گر گئے اور وہاں تباہی پھیلا دی جب کہ ایک براہموس پاکستان کے اوپر سے گزر کر افغانستان میں بھی جا گرا چناں چہ سات اور 10مئی بھارت کے لیے خوف ناک خواب بن کر رہ گیا‘ 10مئی کو ائیرفورس اور پاک فوج دونوں نے مل کر حملہ کیا تھا‘ پاک فوج فتح ون اور فتح ٹو داغ رہی تھی جب کہ ائیرفورس جے ایف 17 سے میزائل پھینک رہی تھی یہاں تک کہ بھارت نے پانچ ملکوں کو سیز فائر کے لیے درمیان میں ڈال لیا یوں جنگ ختم ہو گئی لیکن دنیا کے سامنے ایک نیا پاکستان متعارف ہو گیا‘ اس پاکستان نے سب سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثر کیا‘ کیسے؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ پاکستان نے کسی دوسرے ملک کی مدد کے بغیر یہ جنگ اپنے بل بوتے پر لڑی اور جیتی‘دنیا میں ہر شخص بہادر لوگوں کی قدر کرتا ہے۔

 ٹرمپ سے لاکھ اختلاف لیکن یہ اس معاملے میں بہت شان دار انسان ہے‘ یہ دوسروں کی خوبیوں کو بہت جلد بھانپ لیتا ہے اور ان کی کھل کر تعریف بھی کرتا ہے‘ پاکستان کی بہادری نے ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثر کر لیا‘ دوسری وجہ پاکستان کی سفارت کاری تھی‘ پاکستان 70 برس سے امریکا کے ساتھ کام کر رہا ہے‘ یہ جانتا ہے امریکی ہمیشہ کریڈٹ جمع کرتے ہیں‘ انھیں تھوڑی سی کام یابی کے بعد لمبی چوڑی واہ واہ چاہیے ہوتی ہے چناں چہ پاکستان نے اسی شام ڈونلڈ ٹرمپ کو سیز فائر کرانے کا کریڈٹ دے کر اس کے دل میں گنجائش پیدا کر لی‘ ہم یہ بھی جانتے تھے ڈونلڈ ٹرمپ نوبل انعام کا خواہاں ہے‘ پاکستان نے فوراً اسے نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا جب کہ نریندر مودی ناتجربہ کاری اور غرورسے مار کھا گیا‘ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سیز فائر کا کریڈٹ دیا اور نہ نوبل انعام کا حق دار سمجھا‘ یہ سیز فائر کی شرطوں سے بھی پیچھے ہٹ گیا‘ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انا پر حملہ تھا اور اس حملے کا نتیجہ اس وقت پورا بھارت بھگت رہا ہے۔

پاکستان کی جیت نے امریکا کے بعد سب سے زیادہ عربوں کو متاثر کیا‘ اس کی متعدد وجوہات ہیں‘مثلاً عربوں کا سورج امریکا سے طلوع ہوتا ہے‘ یہ ہمیشہ اس طرف جھکتے ہیں جدھر امریکا کا جھکاؤ ہوتا ہے‘ امریکا 1980کی دہائی میں پاکستان کا دوست اور بھارت کا دشمن تھا لہٰذا عرب بھی پاکستان کے دوست تھے‘ امریکا نے 2005میں پالیسی تبدیل کی اور بھارت کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا جس کے بعد عربوں نے بھی اپنے دروازے بھارت کے لیے کھول دیے‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے‘ 13فروری 2024کوابوظہبی میں مندر بن گیا اور اس کا افتتاح نریندرمودی نے کیا‘ جنرل منوج مکنڈنروا نے سعودی عرب کا دورہ کرنے والے پہلے آرمی چیف ہیں‘یہ 6دسمبر 2020کو ریاض گئے اور ان کی وہاں اعلیٰ ملٹری حکام سے ملاقاتیں ہوئیں‘ عرب آج تک چین اور روس کے قریب نہیں آئے‘ کیوں؟ کیوں کہ امریکا انھیں ناپسند کرتا ہے‘ مئی کی جنگ کے بعد جب عربوں نے دیکھا ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان زندہ باد کہتے نہیں تھک رہا تو یہ بھی ہم پر مہربان ہو گئے۔

 دوسرا پاکستان قربانی دینے اور لڑنے والا ملک ہے‘ ہم نے بھارت کے ساتھ پانچ جنگیں لڑیں اور اپنا سکہ منوایا‘ ہمارے علاوہ کسی اسلامی ملک میں ایسا وار اسٹیمنا نہیں‘ تیسرا عرب ملکوں کی آبادی کم‘ دولت زیادہ اور ہمت انتہائی کم ہے‘ ان کے عام سپاہی بھی ٹریننگ کے لیے لینڈ کروزر پر اکیڈمی جاتے ہیں‘ دنیا جہاں کے جدید ترین طیارے اور میزائل ان کے بیسز پر کھڑے ہیں لیکن انھیں چلانے والا کوئی نہیں‘ یہ بھاری تنخواہیں دیتے ہیں لیکن ان کی نوجوان نسل فوج میں بھرتی نہیں ہوتی اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے یہ ہو جائے تو یہ ٹف ٹریننگ سے گھبراتے ہیں چناں چہ انھیں ہر دور میں ٹرینڈ آرمی کی ضرورت رہی اور پاکستان کا جوان ٹف بھی ہے‘ ٹرینڈ بھی اور جان دیتے ہوئے بھی نہیں گھبراتا‘ مئی کی جنگ نے یہ ایک بار پھر ثابت کر دیا‘ چار‘ عرب ملکوں میں تمام دفاعی آلات اسرائیلی امریکی کمپنیوں نے نصب کیے ہیں‘ عرب آرڈر امریکی کمپنیوں کو دیتے تھے لیکن آلات لگانے کے لیے اسرئیلی آتے تھے لہٰذا اسرائیلی عربوں کی گولیوں کی تعداد تک سے واقف ہیں اور پانچویں وجہ پاکستان عربوں کو قریب‘ سستا اور آسان پڑتا ہے۔

 سعودی عرب نے ہم سے 1984میں دفاعی معاہدہ کیا تھا‘ ہم نے 41 برسوں میں اس میں کامے اور فل اسٹاپ کی تبدیلی کا مطالبہ بھی نہیں کیا‘ 1984سے ہمارے افسر اپنی رہائش گاہ کا خود بندوبست کرتے ہیں‘ انھیں سرکاری رہائش نہیں ملتی‘ 1984ء سے انگریزی کے ڈاکومنٹس عربی زبان میں ترجمہ کر کے سعودی دفتروں میں جمع کرائے جاتے ہیں اور سعودی عرب جانے والے جوانوں اور افسروں کو عربی زبان میں کانٹریکٹ دیا جاتا ہے‘ یہ آج تک جوں کا توں ہے‘ اس دوران دنیا بدل گئی‘ ٹائپ رائیٹر کی جگہ کمپیوٹر اور لینڈ لائین کی جگہ اسمارٹ فون آ گیا لیکن یہ معاہدہ ٹائپ شدہ اور جوںکا توں رہا‘ مئی 2025ء کی جنگ سے قبل ہمارا کوئی افسر رہائش یا اضافی سہولت کی بات کرتا تھا تو اسے جواب دیا جاتا تھا ہم وژن 2030ء کے تحت یہ کانٹریکٹ ختم کر رہے ہیں۔

 آپ تین چار سال کے مہمان ہیں‘ یہ وقت خاموشی سے گزارہ کر لیں لیکن پھر تین واقعات ہوئے اور عربوں کا رویہ بدل گیا‘ مئی میں پاکستان نے بھارت کا بھرکس نکال دیا‘ 13 جون 2025ء کو اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا‘ ایران کے جوابی حملے نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا اور9ستمبرکو اسرائیل نے قطر پر حملہ کر دیا اور اس حملے نے عربوں کو ’’ری تھنک‘‘ پر مجبور کر دیا ۔(ہم اگلے کالم میں پاک سعودی معاہدے پر بات کریں گے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان نے پاکستان کی بھارت کے بھارت کا سیز فائر بھی ہیک ہو جائے رہی تھی چناں چہ رہے ہیں تھا اور کے ساتھ ہوتا ہے پر حملہ کیا تھا اور اس کے لیے کے بعد ہے اور کر دیا مئی کی یہ بھی کے سات

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی