data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251007-06-20
کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عاطف اکرام شیخ نے بتایا ہے کہ FPCCI نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تعاون سے اپنے ہیڈ آفس کراچی میں بزنس اینڈ ہیومن رائٹس (BHR) ڈیسک قائم کر دیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان میں انسانی حقوق کے اصولوں کو کاروباری ماحول میں ضم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو کہ حکومتِ پاکستان کے 2021 میں منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس ( on BHR NAP ) سے ہم آہنگ ہے۔صدر FPCCI کے مطابق یہ ڈیسک پاکستان کی کاروباری برادری کو انسانی حقوق سے متعلق امور میں آگاہی، صلاحیتوں کی تعمیر، پالیسی سازی میں معاونت اور رہنمائی فراہم کرے گا۔ FPCCI کے 296 سے زائد رکن ادارے( جن میں چیمبرز آف کامرس، انڈسٹری ایسوسی ایشنز اور ویمن چیمبرز شامل ہیں) اس ڈیسک کے ذریعے اپنی سپلائی چینز میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی، تدارک اور روک تھام کے قابل ہوں گے۔عاطف اکرام شیخ نے مزید کہا کہ اس ڈیسک کے کلیدی شعبہ جات میں مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی پائیداری، صنفی مساوات، اور اخلاقی ذرائع سے خریداری کرنا شامل ہیں؛ جو ایک ایسے کاروباری ماحول کو فروغ دیں گے جو منافع کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری کا بھی لحاظ رکھتا ہو۔اس موقع پر FPCCI کی نائب صدر محترمہ قرۃ العین کو صدر FPCCI کی جانب سے Council UNDP BHR – FPCCI کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس ڈیسک کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ FPCCI اخلاقی وکاروباری رویوں اور جامع ترقی کے فروغ کیلئے پرعزم ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں انسانی حقوق کو شامل کر کے، ہم نہ صرف کمزور طبقات کو تحفظ دے سکتے ہیں ؛بلکہ معیشت میں جدت اور نئی راہیں بھی پیدا کرسکتے ہیں۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی قرۃ العین نے بزنس کمیونٹی کیلئے اس اقدام کے عملی فوائد کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا”آج کی عالمی دنیا میں انسانی حقوق کو نظر انداز کرنا کاروباری اداروں کو بدنامی اور عالمی مارکیٹ سے اخراج کے خطرے سے دوچار کر دیتا ہے۔ یہ ڈیسک ہمارے اراکین کو عملی بصیرت، تربیت اور رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ عالمی ویلیو چینز میں دیانتداری کے ساتھ کامیاب ہوں”۔FPCCI کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ آج کے دور میں جہاں عالمی سرمایہ کار ESG یعنی کہ ماحولیاتی، سماجی و گورننس اصولوں کو اولین ترجیح دیتے ہیں، یہ ڈیسک پاکستانی کاروباروں کو بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے، برآمدی مسابقت بڑھانے اور پائیدار غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں مدد دے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ BHR ڈیسک وزارتِ انسانی حقوق، UN Global Compact جیسے بین الاقوامی اداروں، اور سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ورکشاپس، ٹول کٹس کی تیاری اور اقوام متحدہ کے رہنماء اصول برائے بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کے نفاذ کی نگرانی کرے گا۔FPCCI کے نائب صدر و ریجنل چیئرمین سندھ عبدالمہیمن خان نے کہا کہ اس اقدام میں خواتین اور پسماندہ طبقات کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کے انسانی حقوق پائیدار ترقی کی بنیاد ہیں۔ یہ ڈیسک ان آوازوں کو بلند کرے گا جو طویل عرصے سے کاروباری گفتگو میں نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔ چاہے وہ منصفانہ مزدوری ہو یا دفاتر میں صنفی برابری، FPCCI ایک ایسے نجی شعبے کی بنیاد رکھ رہا ہے کہ جو تمام پاکستانیوں کے لیے منصفانہ اور مساوی مواقع فراہم کرے۔اس موقع پر FPCCI کے نائب صدر امان پراچہ، UNDP کے کنسلٹنٹ شیخ حماد امجد اور UNDP کے رائٹس بیسڈ ڈویلپمنٹ ایکسپرٹ امر حسن نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور UNDP BHR – FPCCI ڈیسک کے مقاصد و اہداف پر روشنی ڈالی۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ ا یہ ڈیسک کرے گا نے کہا

پڑھیں:

تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 

تھائی لینڈ کی حکومت نے مقامی ملکیتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق ہزاروں کمپنیوں میں مقامی افراد کو محض کاغذی مالکان ظاہر کر کے غیر ملکیوں نے کاروباری پابندیوں سے بچنے کی کوشش کی۔ تازہ کارروائیوں کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان میں تشویش بڑھ گئی ہے کہ ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق جنوبی صوبے کرابی میں ایک کمپنی سرکاری ریکارڈ میں نیل سیلون (ناخنوں کی آرائش کے مرکز) کے طور پر رجسٹرڈ تھی، تاہم تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر اسے ایک اسرائیلی خاتون بالغ مواد پر مبنی آن لائن کاروبار چلانے کے لیے استعمال کر رہی تھی، جو سبسکرپشن ویب سائٹ اونلی فینز کے ذریعے سرگرم تھا۔

یہ کمپنی تقریباً 500 ایسی کمپنیوں میں شامل تھی جنہیں ایک ہی اکاؤنٹنگ فرم نے رجسٹر کرایا تھا۔ ان کمپنیوں میں بیوٹی سیلونز سے لے کر بھنگ (کینابس) کی فارمز تک مختلف کاروبار شامل تھے۔

تھائی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام کمپنیوں کا تعلق غیر ملکی افراد سے تھا جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے مقامی تھائی شہریوں کو اکثریتی مالک ظاہر کیا، حالانکہ ان افراد کا کاروبار میں عملی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔

تھائی لینڈ کے فارن بزنس ایکٹ کے تحت غیر ملکی شہری عام طور پر کسی مقامی کمپنی میں 49 فیصد سے زیادہ حصص کے مالک نہیں بن سکتے۔ اس پابندی سے بچنے کے لیے بعض غیر ملکی کاروباری افراد مقامی شہریوں کو رقم دے کر ایسے دستاویزات تیار کراتے ہیں جن میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ کمپنی کے کم از کم 51 فیصد حصص تھائی شہریوں کی ملکیت ہیں۔

برسوں تک اس طرزِ عمل کو نظر انداز کرنے کے بعد اب حکام نے سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مقامی شراکت دار کے طور پر درج افراد اپنی حقیقی سرمایہ کاری اور ملکیت کے شواہد پیش کریں۔

حکومت نے سیاحتی علاقوں میں وسیع پیمانے پر معائنے شروع کیے ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا تجزیہ کیا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار غیر ملکی روابط رکھنے والی کمپنیوں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق انہیں روزانہ بڑی تعداد میں ایسے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور جائیداد مالکان کی جانب سے رابطے موصول ہو رہے ہیں جو خدشہ رکھتے ہیں کہ اگر وہ غیر قانونی نامزد مالکان (نومنی) کے نظام میں ملوث پائے گئے تو ان کے اثاثے منجمد یا ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

قانونی فرم لائرز فار ایکسپیٹس تھائی لینڈ کے شعبۂ بین الاقوامی امور کے جنرل منیجر برائن ریمزڈن کے مطابق تمام متاثرہ افراد کو اپنی سرمایہ کاری ضائع ہونے اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے کا خوف لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر افراد یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ انہیں معلوم تھا یہ طریقہ غیر قانونی ہے، لیکن ان کے وکلا نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔

ریمزڈن کے مطابق ان کی فرم کو روزانہ 100 سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں جن میں لوگ قانونی راستہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کمپنی عملی کاروباری سرگرمیوں میں شامل نہیں تو یہ خود ایک خطرے کی علامت ہے۔

وزیراعظم بھی متحرک

تھائی وزیر اعظم انوتن چارنویراکول بھی جعلی طور پر رجسٹرڈ کمپنیوں کے خلاف مہم میں پیش پیش ہیں۔

گزشتہ ماہ جنوبی تھائی لینڈ کے معروف سیاحتی مقامات کے دورے کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر قانونی کاروباروں اور شیل کمپنیوں کے ذریعے سرگرم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جنوب مشرقی ایشیا میں سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کے تناظر میں اس معاملے کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک ہی شخص سینکڑوں کمپنیوں میں حصص رکھتا ہو تو اس کا مقصد دراصل کمپنیوں کی خرید و فروخت اور غیر ملکیوں کو کاروبار کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ہوتا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔

سیاحتی جزائر خصوصی نگرانی میں

تھائی وزارت تجارت کے مطابق گزشتہ ماہ کیے گئے آڈٹ میں معلوم ہوا کہ مشہور سیاحتی جزائر کوہ ساموئی اور کوہ پھانگان میں رجسٹرڈ 16 ہزار 800 قانونی اداروں میں سے تقریباً 70 فیصد میں غیر ملکیوں کی شراکت موجود ہے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ غیر ملکی روابط کا مطلب لازمی طور پر قانون شکنی نہیں۔

غیر ملکی مشتبہ افراد گرفتار

گزشتہ ہفتے حکام نے اعلان کیا کہ صوبوں فوکٹ اور سورات تھانی میں جعلی رجسٹریشن کے ذریعے قائم کمپنیوں کی تحقیقات کے بعد 28 غیر ملکی مشتبہ افراد کے مقدمات استغاثہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل کوہ پھانگان میں حکام تقریباً 15 کروڑ بھات (45 لاکھ ڈالر) مالیت کی 30 اراضیوں کو ضبط کر چکے ہیں جبکہ غیر قانونی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے دو تھائی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

مقامی کاروباری حلقوں کی شکایات

تھائی کاروباری برادری کے بعض حلقے طویل عرصے سے شکایت کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار ان کے لیے مسابقت مشکل بنا رہے ہیں۔

ایک معروف تھائی کاروباری شخصیت، جنہوں نے صرف اپنے عرف تھونگ سے شناخت ظاہر کرنے کی اجازت دی، کا کہنا تھا کہ بعض غیر ملکی سرمایہ کار ولاز خرید کر انہیں مختصر مدتی کرایے کی رہائش گاہوں میں تبدیل کر دیتے ہیں، جس کے بعد قیمتیں اس قدر بڑھ جاتی ہیں کہ مقامی افراد ان جائیدادوں تک رسائی نہیں رکھ پاتے۔

ان کے مطابق مکمل ملکیت غیر ملکیوں کے پاس چلے جانے سے مقامی آبادی معاشی طور پر پیچھے رہ جاتی ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے۔

سرمایہ کاری کے ماحول پر سوالات

کریک ڈاؤن کے نتیجے میں یہ خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ بعض جائز غیر ملکی سرمایہ کار نادانستہ طور پر قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری کے لیے تھائی لینڈ کی ساکھ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

ملک میں کنڈومینیم ملکیت کے قوانین کے تحت کسی بھی رہائشی منصوبے کا کم از کم 51 فیصد حصہ تھائی شہریوں کے لیے مختص ہونا ضروری ہے، تاہم بنکاک، فوکٹ اور پٹایا جیسے علاقوں میں بعض اوقات پورے اپارٹمنٹ بلاکس غیر ملکی خریداروں کو فروخت کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

آن لائن فورمز پر متعدد غیر ملکی افراد نے ایسے تجربات بیان کیے ہیں جن میں جائیداد خریدنے یا لیز پر لینے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ متعلقہ یونٹ قانونی طور پر تھائی شہریوں کے لیے مختص تھا اور وہ اس کے حقیقی مالک نہیں بن سکتے تھے۔

پٹایا میں مقیم غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکس کے ماہر وکٹر وونگ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت شدید احتیاط اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قوانین کے نفاذ کو تو سخت کر رہی ہے لیکن ساتھ ہی قانونی سرمایہ کاری کے نئے اور واضح راستے فراہم نہیں کیے جا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب سرمایہ کار غیر قانونی شارٹ کٹس کے بجائے ایسے پائیدار اور قانونی ڈھانچوں کی تلاش میں ہیں جن کے ذریعے وہ اعتماد کے ساتھ تھائی لینڈ میں کاروبار جاری رکھ سکیں۔

تاہم بعض غیر ملکی رہائشی اس کریک ڈاؤن پر تنقید کو درست نہیں سمجھتے۔ برائن ریمزڈن کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار تھائی لینڈ نہیں بلکہ وہ افراد ہیں جنہوں نے جانتے بوجھتے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی نے غیر ملکیوں کو غیر قانونی طریقے اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا۔ جو لوگ قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کرتے، مسئلہ دراصل وہی ہیں۔

ان کے بقول یہ کریک ڈاؤن طویل مدت میں تھائی لینڈ کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر ثابت ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

تھائی لینڈ غیرملکی سرمایہ کاری

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ