data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ: بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (ICRC)  کاکہنا ہے کہ غزہ میں جاری خونریز صورتحال کے خاتمے اور شہریوں کے دکھ درد کو کم کرنے کے لیے ایک پائیدار جنگ بندی ناگزیر ہے اور ادارہ تیار ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گمشدہ خاندانوں کو دوبارہ ملانے اور امداد کی محفوظ ترسیل میں اپنا کردار ادا کرے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق  صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ریڈ کراس کی صدر میریانا سپولیارچ نے کہا کہ ایک مستقل جنگ بندی ہی زندگیوں کو بچانے اور موت و تباہی کے اس شیطانی چکر کو توڑنے کا واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریڈ کراس کی ٹیمیں غیر جانب دار ثالث کے طور پر یرغمالیوں اور قیدیوں کی واپسی کے عمل میں تعاون کے لیے تیار ہیں جبکہ غزہ میں پھنسے ہوئے شہریوں کو محفوظ انداز میں امداد کی ترسیل کے لیے بھی تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی  جارحیت کے نتیجے میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے پیاروں کی رہائی کے انتظار کی اذیت برداشت کرنا پڑ رہی ہے،  ہزاروں فلسطینی قیدی بدستور اسرائیلی جیلوں میں ہیں،  ان کے اہلِ خانہ ہر لمحہ ان کی رہائی کی آس میں ہیں۔

ریڈ کراس کے صدر نے کہاکہ غزہ میں عام شہری ناقابلِ تصور مصائب کا شکار ہیں،  متواتر بمباری اور انسانی امداد پر سخت پابندیوں نے زندگی کے تمام پہلو مفلوج کر دیے ہیں،  غزہ میں انسانی امداد کو مکمل سہولیات کے ساتھ بحال کیا جائے اور اسے ان افراد تک پہنچایا جائے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک 148 یرغمالیوں اور 1,931 قیدیوں کی رہائی میں سہولت فراہم کی جا چکی ہے جبکہ شہداء کی میتوں کی واپسی کا عمل بھی مکمل احترام کے ساتھ جاری ہے تاکہ ان کے اہلِ خانہ سوگ منا سکیں۔

یاد رہے کہ اسرائیلی جارحیت کا آغاز 7 اکتوبر 2023  سے شروع ہوا، صیہونی فورسز  کی غزہ پر وحشیانہ بمباری کا سلسلہ آج تک جاری ہے، ان حملوں کے دوران اسرائیل نے امریکی حمایت سے غزہ میں انسانی امداد کے نام پر دہشت گردانہ کارروائیاں کیں، جن میں اسپتالوں، اسکولوں، امدادی مراکز اور پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہےکہ  اب تک غزہ میں 42 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ کی مکمل ناکہ بندی، غذائی قلت، ادویات کی کمی اور اسپتالوں پر بمباری کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اجتماعی سزا قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ریڈ کراس

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم