بھارت کے ساتھ جھڑپ میں چینی ہتھیاروں نے شاندار کارکردگی دکھائی، مغربی ہتھیار لینے کو بھی تیار ہیں: ترجمان پاک فوج
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
بھارت کے ساتھ جھڑپ میں چینی ہتھیاروں نے شاندار کارکردگی دکھائی، مغربی ہتھیار لینے کو بھی تیار ہیں: ترجمان پاک فوج WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس) پاکستان نے چین سے حاصل کیے گئے جدید ہتھیاروں کو بھارت کے ساتھ مئی میں ہونے والی چار روزہ جھڑپ کے دوران ’’بہترین کارکردگی‘‘ دکھانے پر سراہا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے ”بلومبرگ“ کے مطابق، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’حالیہ معرکوں میں چینی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے۔‘
میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے اسلام آباد میں بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’پاکستان ہر قسم کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے تیار ہے، اور حالیہ عرصے میں چینی سسٹمز نے خود کو بے حد مؤثر ثابت کیا ہے۔‘
واضح رہے کہ مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی جھڑپ میں پاکستان نے پہلی بار چین سے حاصل کیے گئے جدید جنگی نظاموں کو مکمل طور پر استعمال کیا۔ ان میں چینی ساختہ جے-10 سی لڑاکا طیارے شامل تھے، جنہوں نے کئی بھارتی طیارے، جن میں فرانس کے بنائے گئے رافیل طیارے بھی شامل ہیں، مار گرائے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان نے اب تک بھارت کے سات طیارے مار گرائے ہیں۔ اس سے پہلے یہ تعداد چھ بتائی گئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی گزشتہ ہفتے ورجینیا میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ ’پاکستان نے سات طیارے مار گرائے‘۔
ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کا کوئی طیارہ اس جھڑپ میں تباہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان کبھی اعداد و شمار کے ساتھ کھیلنے پر یقین نہیں رکھتا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں اپنے فضائی بیڑے میں چین کا زی-10ایم ای اٹیک ہیلی کاپٹر بھی شامل کیا ہے، یہ وہی ماڈل ہے جو چین بھارت کی سرحد پر گشت کے لیے استعمال کرتا ہے۔
جنرل احمد شریف نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا پاکستان آئندہ بھی چینی ہتھیاروں کو ترجیح دے گا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ ساتھ مغربی ممالک سے بھی جدید دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری حکمت عملی ہمیشہ یہی رہی ہے کہ ہم مؤثر، قابلِ اعتماد اور کم خرچ نظاموں کو اپنی فورسز میں شامل کریں‘۔
انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ’’ہتھیاروں کی کسی دوڑ‘‘ میں شامل ہے۔ ان کے مطابق، ’ہمارا دفاعی بجٹ بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے، ہمارے پاس لامحدود وسائل نہیں۔‘
اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ سال پاکستان نے اپنے دفاع کے لیے 10.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمتنازع ٹویٹ کیس: ایمان مزاری کو آئندہ سماعت پر فرد جرم کا جواب دینے کی ہدایت پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج صیہونی بربریت کے دو سال مکمل، ہزاروں شہید، لاکھوں زخمی، لاکھوں بے گھر، آج بھی 24 جنازے پاکستان میں دہشت گردی سے منسلک تشدد کی وارداتوں میں تیسری سہ ماہی کے دوران نمایاں اضافہ ہوا، رپورٹ بگرام ائیر بیس کسی صورت امریکا کے حوالے نہیں کریں گے: ذبیح اللہ مجاہد چین کے 6 جنریشن اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی نئی تصاویر میں کیا خاص ہے؟ عمران خان کیخلاف 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کا جیل ٹرائل بحال کر دیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چینی ہتھیاروں بھارت کے ساتھ جھڑپ میں میں چینی
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔