Nawaiwaqt:
2026-06-03@07:02:42 GMT

شوبز حلقوں میں ہلچل، سید نور کا ریشم اور سعود کے خلاف بیان

اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT

شوبز حلقوں میں ہلچل، سید نور کا ریشم اور سعود کے خلاف بیان

پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور ہدایت کار اور مصنف سید نور نے اداکارہ ریشم اور اداکار سعود قاسمی کی جانب سے کی گئی تنقید پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دونوں فنکاروں کے بیانات کا نہایت پراعتماد اور پرسکون انداز میں جواب دیا۔ ریشم کے بارے میں بات کرتے ہوئے سید نور نے کہا کہ ’’اگر ریشم کے میرے ساتھ نہ رہنے سے میرا نقصان ہوا، تو وہ خود بطور اداکارہ کہاں تک پہنچیں؟‘‘ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ریشم کی ان کے ساتھ بننے والی پہلی پانچ فلمیں ’دوپٹہ جل رہا ہے‘، ’گھونگھٹ‘ اور ’جیوا‘ جیسی سپر ہٹ فلمیں تھیں، لیکن وہ ہر کردار کےلیے موزوں نہیں تھیں، اسی لیے انہوں نے دوسرے اداکاروں کے ساتھ کام شروع کیا۔ سید نور نے زور دے کر کہا کہ ’’جب میں نے انہیں کاسٹ کرنا بند کیا تو ان کی کوئی بڑی فلم سامنے نہیں آئی۔ میں نے ان کا کیریئر بنانے کے لیے بہت محنت کی، لیکن یہ کبھی نہیں بتاؤں گا کہ میں نے انہیں کیسے گروم کیا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ریشم کے بعد بھی انہوں نے کئی کامیاب فلمیں دی ہیں، اس لیے یہ کہنا غلط ہے کہ ان کے جانے سے ان کا نقصان ہوا۔ اداکار سعود قاسمی کے تبصرے پر بات کرتے ہوئے سید نور نے نرمی کا رویہ اپناتے ہوئے کہا کہ ’’میرا خیال نہیں کہ سعود کا مقصد مجھے برا کہنا تھا۔ میں جانتا ہوں انہوں نے ایسا کیوں کہا، شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ جب سید نور اور شان شاہد فلموں سے دور ہوئے تو انڈسٹری کمزور ہوگئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سعود اور ریشم دونوں میرے بچوں کی طرح ہیں، میں ان کی تنقید پر ناراض نہیں ہوتا۔ جو لوگ آپ کے مقام تک نہیں پہنچ پاتے، وہ لازمی بات کرتے ہیں۔ سعود ایک اچھے اداکار ہیں اور انہیں اپنی رائے رکھنے کا پورا حق ہے۔‘‘ سید نور کا یہ پرسکون اور معقول ردعمل ان کے وسیع الظرفی اور پیشہ ورانہ پختگی کا ثبوت پیش کرتا ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف اپنا مؤقف واضح کیا بلکہ نوجوان فنکاروں کے لیے عزت و احترام کا رویہ بھی برقرار رکھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا