امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیسے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ڈرا، دھمکا کرامن قائم کرایا، امریکی صدر نے ساری کہانی بیان کردی۔ اس موقع پر انہوں نے مودی سے ہونے والی اپنی گفتگو کی تفصیل بھی بتادی۔ اس گفتگو میں بھارتی وزیراعظم مودی سے تحقیرآمیز انداز میں بات کی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اور یہ سب امریکی تجارتی پالیسیوں اور ٹیرِف کے دباؤ کی وجہ سے ممکن ہوا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ انتظامیہ کی پاک بھارت کشیدگی میں کردار کا دعویٰ، مودی سرکار کا ہزیمانہ ردعمل

ٹرمپ کے مطابق ان کی متنازعہ تجارتی پالیسی، جس کے تحت انہوں نے مختلف ممالک پر بھاری محصولات عائد کیے، نہ صرف امریکا کے لیے سینکڑوں ارب ڈالر کی آمدنی کا ذریعہ بنی بلکہ امن قائم رکھنے کا سبب بھی بنی۔

’ٹیرِف نہ ہوتے تو 4جنگیں جاری ہوتیں‘

 وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ  اگر میرے پاس ٹیرِف کی طاقت نہ ہوتی تو 7 میں سے کم از کم 4 جنگیں اس وقت دنیا میں جاری ہوتیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ بھارت اور پاکستان کو دیکھیں تو وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ کے لیے تیار تھے۔ 7 جہاز مار گرائے گئے تھے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ میں نے کیا کہا، مگر وہ بات بہت مؤثر ثابت ہوئی… ہم نے نہ صرف سینکڑوں ارب ڈالر کمائے بلکہ ہم ٹیرِف کی وجہ سے امن کے رکھوالے بن گئے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کرنے کا دعویٰ کیا ہو۔ 10 مئی کو انہوں نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ واشنگٹن کی ثالثی سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان مکمل اور فوری سیزفائر پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اس کے بعد ٹرمپ نے متعدد مواقع پر دعویٰ دہرایا کہ انہوں نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان تنازعات کو ختم کرانے میں مدد کی۔

’مودی سے کہا کہ ایسا ٹیرف لگاؤں گا کہ تمہارا سر چکرا جائے گا‘

اگست میں ایک بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دھمکی دی تھی کہ اگر بھارت اور پاکستان امن قائم نہیں کرتے تو امریکا بھارت پر بھاری ٹیرِف عائد کرے گا اور کسی تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق انہوں نے مودی سے کہا کہ میں تم سے کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کرنا چاہتا۔ تم لوگ ایٹمی جنگ کی طرف جا رہے ہو۔ کل مجھ سے دوبارہ بات کرنا، لیکن ہم تمہارے ساتھ کوئی ڈیل نہیں کریں گے، یا پھر ہم تم پر ایسے ٹیرِف لگائیں گے کہ تمہارا سر چکرا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے بھارت کی دوبارہ سبکی، امریکی صدر نے 5 طیارے گرانے کا ذکر پھر چھیڑ دیا

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد نے ان سے بات چیت کے صرف 5 گھنٹے بعد امن معاہدہ کر لیا۔ تاہم  بھارت کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

نئی دہلی کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا فیصلہ پاکستانی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کی براہِ راست رابطہ کاری کے نتیجے میں ہوا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت اور پاکستان امریکی صدر کے درمیان انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم