چچا کیخلاف بھتیجی سازش کررہی ہے، گھر کی لڑائی ہے، پیپلز پارٹی کو نہ گھسیٹیں، وقار مہدی
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پیپلز پارٹی کے سینیٹر وقار مہدی نے کہا ہے کہ چچا کے خلاف بھتیجی سازش کر رہی ہے، یہ آپ کے گھر کی لڑائی ہے، پیپلز پارٹی کو نہ گھسیٹیں۔
ایک بیان میں سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ وسطی پنجاب ہو یا جنوبی پنجاب بستیاں ڈوبی ہوئی ہیں، کچے کے علاقے کے سوا سندھ میں کہیں پانی نہیں ہے۔
سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ پنجاب حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ہم نے کبھی صوبائیت اور تقسیم کا نعرہ نہیں لگایا، پیپلز پارٹی گالی گلوچ پر یقین نہیں رکھتی۔
انہوںنے کہا کہ ہم نے لسانیت کے خلاف جدوجہد کی، پیپلز پارٹی نے ملک اور عوام کےلیے کام کیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب ہو یا خیبر پختونخوا یا پھر گلگت بلتستان، ہم عوامی جماعت ہیں، عوام کی بات کریں گے، بلاول بھٹو نے بطور وزیر خارجہ ملک کا وقار عالمی سطح پر بحال کرایا۔
وقار مہدی نے یہ بھی کہا کہ چچا کے خلاف بھتیجی سازش کر رہی ہے، یہ آپ کے گھر کی لڑائی ہے، پیپلز پارٹی کو نہ گھسیٹیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔