data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251008-2-5
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)ٹنڈوجام میں OGDCL کمپنی کی مبینہ ناانصافیوں اور علاقائی مسائل کے حل نہ ہونے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے مقامی رہائشیوں نے کنر آئل فیلڈ کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے گیٹ مکمل طور پر بند کر دیا مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام او جی ڈی ایل انتظامیہ کے خلاف علاقے رہائیشوں نے احتجاج کیا جس کی قیادت سید نجف شاہ جسقم رہنما علو دیشی احمد شیخ اور دیگر مقامی رہنماؤں نے کی اس موقع پر بڑی تعداد میں علاقے لوگوں نے شرکت کی احتجاج سے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹنڈو جام میں کنر آئل فیلڈ موجود ہونے کے باوجود علاقے کے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں مقامی نوجوان بیروزگار ہیں جبکہ کمپنی میں بیرونی افراد کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد آئل فیلڈز پر قابض ہیں جبکہ سندھ کے پڑھے لکھے نوجوان دربدر ہیں ان کا کہنا تھا کہ حقوق مانگنے پر مقامی لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے جب کہ حالیہ ماڑی پور واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے رہنماؤں نے کہا کہ کنر آئل فیلڈ کے قریبی دیہات میں نہ صاف پانی دستیاب ہے، نہ کوئی معیاری اسکول، کالج یا اسپتال موجود ہے جب کہ ان کا وعدہ تھا کہ علاقے لوگوں یہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی لوگ آج کے جدید دور میں بھی لکڑیاں جلا کر کھانا پکانے پر مجبور ہیں علاقے کی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیںجس سے آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں اور یہ سڑکیں ان کے آئل ٹینکروں کے گزرنے کی وجہ سے خراب ہوئیں ہیں مظاہرین کا کہنا تھا کہ رائلٹی کی مد میں ملنے والی رقم کا کوئی حساب نہیں، وہ رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے بااثر وڈیروں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو رہی ہے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا