ٹنڈو جام: اوجی ڈی سی ایل انتظامیہ کی ناانصافیوں کیخلاف رہائشیوں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251008-2-5
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت)ٹنڈوجام میں OGDCL کمپنی کی مبینہ ناانصافیوں اور علاقائی مسائل کے حل نہ ہونے کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے مقامی رہائشیوں نے کنر آئل فیلڈ کے مرکزی گیٹ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے گیٹ مکمل طور پر بند کر دیا مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا تفصیلات کے مطابق ٹنڈوجام او جی ڈی ایل انتظامیہ کے خلاف علاقے رہائیشوں نے احتجاج کیا جس کی قیادت سید نجف شاہ جسقم رہنما علو دیشی احمد شیخ اور دیگر مقامی رہنماؤں نے کی اس موقع پر بڑی تعداد میں علاقے لوگوں نے شرکت کی احتجاج سے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹنڈو جام میں کنر آئل فیلڈ موجود ہونے کے باوجود علاقے کے لوگ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں مقامی نوجوان بیروزگار ہیں جبکہ کمپنی میں بیرونی افراد کو بھرتی کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد آئل فیلڈز پر قابض ہیں جبکہ سندھ کے پڑھے لکھے نوجوان دربدر ہیں ان کا کہنا تھا کہ حقوق مانگنے پر مقامی لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے جب کہ حالیہ ماڑی پور واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے رہنماؤں نے کہا کہ کنر آئل فیلڈ کے قریبی دیہات میں نہ صاف پانی دستیاب ہے، نہ کوئی معیاری اسکول، کالج یا اسپتال موجود ہے جب کہ ان کا وعدہ تھا کہ علاقے لوگوں یہ سہولتیں فراہم کی جائیں گی لوگ آج کے جدید دور میں بھی لکڑیاں جلا کر کھانا پکانے پر مجبور ہیں علاقے کی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیںجس سے آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں اور یہ سڑکیں ان کے آئل ٹینکروں کے گزرنے کی وجہ سے خراب ہوئیں ہیں مظاہرین کا کہنا تھا کہ رائلٹی کی مد میں ملنے والی رقم کا کوئی حساب نہیں، وہ رقم عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے بااثر وڈیروں کے اکاؤنٹس میں منتقل ہو رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.