data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹرجماعت اسلامی سندھ کی مرکزی ہدایات کے تحت بدھ کو شہر قائد کے آٹھوں ٹاؤنز میں اہل غزہ اور فلسطین سے یکجہتی کے شاندار مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ گلشن اقبال، جناح، ماڈل کالونی، لانڈھی، نیو کراچی، گلبرگ، ناظم آباد اور لیاقت آباد ٹاؤنز میں ٹاؤن چیئرمینز اور وائس چیئرمینز کی قیادت میں ہزاروں مرد و خواتین، اساتذہ، طلبہ، سرکاری ملازمین اور مقامی نمائندے شریک رہے۔ شرکا نے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری، خصوصاً مسلم حکمرانوں اور پاکستانی حکومت سے فوری اور عملی اقدامات کی اپیل کی۔ ریلیوں میں امتیازی طور پر چیئرمین گلشن اقبال ڈاکٹر فواد احمد، وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی، ڈائریکٹر ایجوکیشن شیر علی، چیئرمین یوسی 11 نعمان حمید، چیئرمین ماڈل کالونی ظفر احمد خان، چیئرمین لانڈھی عبدالجمیل خان، چیئرمین نیو کراچی محمد یوسف، وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر، نائب امیر ضلع شمالی احمر احمد، چیئرمین گلبرگ نصرت اللہ، چیئرمین ناظم آباد سید محمد مظفر اور لیاقت آباد کے چیئرمین فراز حسیب نے مشترکہ طور پر غزہ کے مظلومین کے حق میں مضبوط و غمگین پیغام دیا اور بین الاقوامی قوانین، انسانی ہمدردی اور فوری نوعیت کی انسانی راہداری کھولنے کا مطالبہ دہرایا گیا۔ مظاہروں کا مرکزی مقصد صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت، گرفتار کارکنان کی فوری رہائی، غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی راہداری کھولنے کے لیے عالمی دباؤ بڑھانا تھا۔ ہر ریلی میں مقامی انتظامیہ کے افسران، سرکاری اسکولوں کے طلبہ و اساتذہ، ضلعی کارکن اور مقامی شہری بڑی تعداد میں شریک رہے۔ ذیل میں ہر ٹاؤن کی تفصیل پیشِ خدمت ہے، گلشن اقبال ٹاؤن کے چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد اور وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی کی قیادت میں گلشن اقبال ٹاؤن آفس سے سوک سینٹر تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں ٹاؤن افسران، ملازمین اور شہریوں نے شرکت کی۔ چیئرمین ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ پاکستانی عوام بیت المقدس کی آزادی اور فلسطینی عوام کے حق کے ساتھ کھڑے ہیں؛ صمود فلوٹیلا پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور دنیا کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہیے۔جناح ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کے تحت اسکولوں کے طلبہ و اساتذہ نے ڈائریکٹر ایجوکیشن شیر علی کی قیادت میں پلے کارڈز اور نعروں کے ساتھ پرامن احتجاج کیا۔ چیئرمین یوسی 11 نعمان حمید بھی مظاہرے میں موجود رہے اور انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے بھی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور بچوں میں ہمدردی کی یہ تربیت وقت کی ضرورت ہے۔ماڈل کالونی ٹاؤن کے چیئرمین ظفر احمد خان کی قیادت میں ٹاؤن آفس سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ظفر احمد خان نے خطاب میں کہا کہ 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی اسرائیلی بربریت انسانی تاریخ کی بدترین مثال ہے؛ حکومت پاکستان کو اپنے روایتی اصولی موقف پر قائم رہ کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔لانڈھی ٹاؤن کے چیئرمین عبدالجمیل خان نے غزہ پر جاری جارحیت کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے؛ انہوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور عورتوں کا قتلِ عام عالمی ضمیر کو جھنجوڑتا ہے اور مسلم اْمہ کو متحد ہو کر مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنی چاہیے۔نیو کراچی ٹاؤن کے چیئرمین محمد یوسف کی قیادت میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس میں وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر اور نائب امیر ضلع شمالی احمر احمد سمیت اسکولوں کے استاد، طلبہ اور عام شہری شریک ہوئے۔ چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ دو ریاستی حل آج عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے؛ فلسطینیوں کا بنیادی حقِ خود ارادیت مکمل طور پر تسلیم کیے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔گلبرگ ٹاؤن چیئرمین نصرت اللہ کی سربراہی میں ٹاؤن آفس سے ریلی نکالی گئی، جس میں ٹاؤن کے تمام محکمہ جاتی افسران، اسکولوں کے اساتذہ اور بچے بھی شامل تھے۔ نصرت اللہ نے کہا کہ یکجہتی محض رسمی اظہار نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا ہے اور ملک بھر کی جماعتیں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ناظم آباد ٹاؤن کے چیئرمین سید محمد مظفر نے مختلف اسکولز اور یوسی کی نمائندہ شخصیات کے ہمراہ ریلی کی قیادت کی۔ اْنہوں نے عالمی برادری اور مسلم حکمرانوں سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر غزہ میں انسانی صورتحال کو سدھارنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ ریلی کے آخر میں شہدائے فلسطین کے لئے دعائیں کی گئیں اور ایک قرارداد منظور کی گئی۔ لیاقت آباد ٹاؤن کے چیئرمین فراز حسیب، وائس چیئرمین اسحاق تیموری اور دیگر نمائندوں کے ہمراہ سندھی ہوٹل سے مرکزی کیمپ تک ریلی نکالی گئی۔ فراز حسیب نے اظہارِ خیال میں غزہ کی صورتحال کو ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہے اور اقوامِ متحدہ سمیت بین الاقوامی ادارے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ پاکستانی حکومت سے واضح مطالبہ کہ وہ قائداعظم کے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے فلسطین کے حقوق کی حمایت کرے اور ٹرمپ پلان یا کسی بھی ایسے معاہدے کی حمایت سے بچے جو فلسطینی حقِ خود ارادیت کو محدود کرے۔ مسلم حکمرانوں سے اپیل کہ وہ محض زبانی مذمت کے بجائے عملی اقدامات کریں اور اقوامِ متحدہ، او آئی سی کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ بڑھائیں۔ہر ٹاؤن میں شرکا نے بینرز، پلے کارڈز اور فلسطینی پرچم اٹھائے رکھے تھے جن پر ’’فلسطین زندہ باد‘‘، ’’اسرائیل مردہ باد‘‘ اور ’’غزہ کے ساتھ یکجہتی‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ ریلیاں پرامن رہیں اور آخر میں شہدائے فلسطین کے لیے دعائیں اور قرآنی آیات کا ورد کیا گیا۔ کئی جگہوں پر چھوٹے کیمپس قائم کر دیے گئے جہاں شہریوں کو مارچ کی معلومات اور یکجہتی کے نوٹس تقسیم کیے گئے۔ جماعتِ اسلامی کے قائدین نے مشترکہ الفاظ میں کہا کہ صمود فلوٹیلا پر حملہ بین الاقوامی قانون اور انسانی قدروں کی کھلی توہین ہے۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ مسلسل یکجہتی کا اظہار کریں اور حکومتی سطح پر فلسطین کے حقِ خود ارادیت کے لیے موثر سفارتی کوششیں دہرائیں۔ جماعتِ اسلامی کے تحت منعقدہ یہ وسیع تحریک نہ صرف مقامی سطح پر فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی تھی بلکہ ایک واضح سیاسی و اخلاقی پیغام بھی تھی جس میں اسلامی و بین الاقوامی برادری، خصوصاً مسلم حکمرانوں اور پاکستانی حکومت سے عملی اور فوری مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔ ہر ٹاؤن کی قیادت نے وعدہ کیا کہ یہ مظاہرے، یکجہتی اور عوامی شعور جاری رکھا جائے گا جب تک غزہ میں انسانی بحران کا مستقل حل نہ نکل آئے۔

 

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹاو ن کے چیئرمین صمود فلوٹیلا پر ریلی نکالی گئی مظلوم فلسطینی وائس چیئرمین بین الاقوامی کی قیادت میں گلشن اقبال اسکولوں کے فلسطین کے نے کہا کہ میں ٹاو ن کے ساتھ ٹاو ن ا ہے اور کے لیے

پڑھیں:

جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔

سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش

فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار

ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے

اس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔

مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔

ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا

اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔

ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔

گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیں

جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔

ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔

جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی

سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔

اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا

اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔

’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق

ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔

جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔

ادارت: جاوید اختر

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم