اہل یمن کا اپنے محسن سید حسن نصر اللہ شہید کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: انصار اللہ کے قائدین میں سے ایک خالد المدنی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ سید حسن نصر اللہ یمنی عوام کی حمایت میں اٹھنے والی ایک طاقتور آواز تھے،انہوں نے ہمیشہ یمنی عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے بارے میں بات کی اور یمن کے خلاف امریکہ، صیہونی حکومت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مشترکہ جارحیت پر سخت موقف اختیار کیا، وہ پوری قوت کے ساتھ ہماری حمایت کے لئے موجود تھے۔ خصوصی رپورٹ:
یمن کے شہر صنعاء میں لبنان کی اسلامی مزاحمت حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر یمنی عوام نے رہبر مقاومت کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور یمنی حکومت اور عوام کے لیے ان کی غیر متزلزل حمایت کو سراہا ہے۔ اگرچہ سید حسن نصر اللہ لبنان میں شہید ہوئے، لیکن یمن کے مظلوم اور مزاحمتی عوام نے بھی ان کی شہادت پر سوگ منایا اور ماتمی لباس زیب تن کیے۔ یمن کی حکومت اور عوام 2015 میں سعودی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کے حملے کے آغاز سے لے کر اب تک یمن کے عوام کے لیے حزب اللہ اور سید حسن نصر اللہ کی مسلسل حمایت اور صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں کے تسلسل کے مقابلے میں اسلامی مزاحمت کو فرنٹ لائن اور ایک ناقابل تسخیر رکاوٹ سمجھتے ہیں۔
صنعاء کے مبارز اور مجاہد عوام اسلامی ممالک کے خلاف دشمنوں کی جارحیت کے دائرہ کار میں توسیع کو اس دانشمند اور دلیر لیڈر کی عدم موجودگی کا ایک نتیجہ سمجھتے ہیں۔ اس سلسلے میں یمن کے میڈیا کے قائم مقام وزیر توفیق الحمیری نے خبررساں ادارےتسنیم کے ساتھ انٹرویو میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ امت کے عظیم رہنما کی شہادت کی پہلی برسی ہے، سید حسن وہ پہلا مورچہ تھے جو صہیونیوں کے خلاف رکاوٹ بنا،جس نے "نئے مشرق وسطیٰ" نامی منصوبے کو آگے بڑھانے سے انہیں روکا، ہم یمنی قوم کے سید حسن نصر اللہ کے ساتھ تعلق سے پوری طرح واقف ہیں، شہید صیہونیوں کے خلاف ہماری لڑائی میں بھی حصہ دار تھے۔
نوجوان اور کھیل کے قائم مقام وزیر علی حسین حزبان نے بھی ایک مختصرگفتگو میں خطے میں امریکی صہیونی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قائد مزاحمت کی انتھک کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سید حسن نصر اللہ کی شہادت نے قوم کو اپنی ناقابل تسخیر سایہ سے محروم کر دیا اور شام میں اسرائیل اور امریکی سازشوں کیخلاف مقاومت کو بھی نقصان پہنچا۔
ان کی شہادت کے بعد خطے میں ہونے والی پیش رفت نے ثابت کر دیا کہ سید حسن نصر اللہ امریکہ، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے نئے منصوبوں کے سامنے ایک ناقابل تسخیر رکاوٹ اور ایک مضبوط قلعہ تھے۔ یمن میں اس سانحہ کو بہت بڑا نقصان سمجھا جاتا ہے۔ یمنی عوام کی سید حسن نصر اللہ سے پہلے بھی عقیدت تھی لیکن جب یمنی عوام 2015 میں اس ملک پر بین الاقوامی اتحاد کے حملے کے سامنے تنہارہ گئے تھے، تو شہید حسن نصر اللہ جارحیت شروع ہونے کے ایک رات بعد ایرانی اسلامی مزاحمتی مجاہدین کی مدد سے یمنی عوام کی مدد کے لیے وارد ہو گئے تھے۔ ان دنوں جب کہ یمنی عوام کی اکثریت آپ کی شہادت پر سوگ منا رہی ہے، اس عظیم دکھ کی تسکین سید عبدالملک الحوثی کی موجودگی ہے، جو اس ملک میں مزاحمت کا پرچم تھامے ہوئے، ملت اسلامیہ کا دفاع کر رہے ہیں۔
یمن کی عبوری کونسل کے رکن کرنل یحییٰ المہدی نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کی شہادت پر یمنیوں کے غم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمن میں ہمارا مزاج لبنان میں اپنے بھائیوں جیسا ہے، ہم شہید انسانیت و شہید اسلام سید حسن اللہ کے نقصان پر ان سے بھی زیادہ غمزدہ اور غمگین ہیں،وہ یمن پر جارحیت کے دوران یمنیوں کےمددگار، حامی اور سرپرست تھے۔
سید حسن نصر اللہ کو یمنی عوام میں ایک عام آدمی نہیں سمجھا جاتا ہے، بلکہ ایک ایسی سوچ سمجھا جاتا ہے جس کی پیروی کی جانی چاہیے۔ ان دنوں قطر کے شہر دوحہ پر صیہونی حکومت کے حملے کے بعد عرب دنیا کے حکمرانوں میں سے شہید مقاومت کے دشمن بھی ان کی جدائی اور نقصان کو ان کے حامیوں سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں اور وہ اپنی سرزمینوں کے خلاف صیہونی حکومت کی جارحیت کو سید حسن نصرا للہ کی شہادت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
انصار اللہ کے قائدین میں سے ایک خالد المدنی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ سید حسن نصر اللہ یمنی عوام کی حمایت میں اٹھنے والی ایک طاقتور آواز تھے،انہوں نے ہمیشہ یمنی عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کے بارے میں بات کی اور یمن کے خلاف امریکہ، صیہونی حکومت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مشترکہ جارحیت پر سخت موقف اختیار کیا، وہ پوری قوت کے ساتھ ہماری حمایت کے لئے موجود تھے۔
یمنی عوام سید حسن نصر اللہ کی فلسطینی عوام کی حمایت کو کبھی فراموش نہیں کریں گے جو بالآخر اس مقصد میں ان کی شہادت پر منتج ہوئی۔ صیہونی دشمن کے ساتھ مقابلے میں شاید سب سے بڑا نقصان اور سب سے بڑی قربانی سید حسن نصر اللہ کی شہادت تھی۔ سید حسن نصر اللہ کی شہادت کی برسی کے موقع پر یمنی اپنے عہد وفاپر قائم ہیں اور مظلوموں کی حمایت اور عالمی استکبار کا مقابلہ کرنے کے لیے "سید وفا" کے ساتھ اپنا راستہ جاری رکھنے کی تجدید عہد کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید حسن نصر اللہ کی شہادت کہ سید حسن نصر اللہ صیہونی حکومت یمنی عوام کی کی شہادت پر کی حمایت حزب اللہ اللہ کے کے خلاف کے ساتھ یمن کے کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔