کراچی میں 5 ارب روپے کی گیس چوری ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
سوئی سدرن کادوہفتوں میں ملیر اور اطراف کے علاقوں میں لگاتارآپریشن، متعددافرادگرفتار
سرغنہ اللہ وڈھایو اور کارندوںکیخلاف مقدمات درج ، گیس چوری کی رقم ادا کرنے سے انکار
کراچی کے چندعلاقوں میں ایک سال کے دوران 5 ارب روپے مالیت کی گیس چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، یہ انکشاف سوئی سدرن کی گیس چوروں کیخلاف درج ایف آئی آرمیں سامنے آیاہے۔سوئی سدرن کے مطابق گیس چور مافیا کے خلاف جاری آپریشن میں بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ملیر اور اطراف کے مختلف علاقوں میں مسلسل کارروائیاں کی گئیں۔کارروائیوں کے دوران گیس چوروں کے سرغنہ اللہ وڈھایو اور اس کے کارندوں کو گرفتار کرکے مقدمات درج کیے گئے اور گیس یوٹیلٹی کورٹ کراچی ڈویژن نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں جن میں اللہ وڈھایو بھی شامل ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ملزمان مختلف علاقوں میں چوری شدہ گیس سے فراہمی کا متوازی نظام چلا رہے تھے۔سوئی سدرن حکام کے مطابق اللہ وڈھایو اور اس کے ساتھیوں واجد علی، خان محمد، علی نواز اور غلام قادر نے گیس چوری کی رقم ادا کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف نقصانات کی مد میں مجموعی واجب الادا رقم 5.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔