حیدرآباد میں ڈینگی وملیریا کے مریضوںمیں تشویشناک حد تک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251008-1-6
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد میں ڈینگی اور ملیریا کے مریضوں میں خطرناک حد تک اضافہ ،ایک جاںبحق ہوگیا۔ حیدرآباد میں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی نااہلی کے باعث ڈینگی اور ملیریا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہاہے ۔لطیف اباد نمبر 11 بلال مسجد کے پاس رہائش پذیر کامران نامی الیکٹریشن ڈینگی سے جنگ لڑتے ہوئے بازی ہار گیاتمام نجی اسپتال اورکلینک مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں ،انسداد پولیو کیلیے فورس لیکر گھومنے والے محکمہ صحت کے افسران اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھارہے نہ ہی ملیریا سے تحفظ کے لیے حفاظتی ادویات دی جارہی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مؤثر انداز میں مچھر مار اسپرے کرایاجارہاہے چند مقامات پر نمائشی مچھر مار مہم کے نام پر فوٹو سیشن کا عمل جاری ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
قومی اقتصادی سروے 26-2025 میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔
قومی اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی جو سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور خچروں کی تعداد 1.8 فیصد اضافے کے بعد دو لاکھ 21 ہزار ہوگئی ہے۔
سروے میں بتایا گیا کہ گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی ہے، ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی ہے جو 3.8 فیصد اضافہ ہے، بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی اور سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
قومی اقتصادی سروے میں مزید بتایا گیا کہ ملک میں بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزار ہوگئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے میں 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی ہے۔