خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے وار جاری، 77 نئے کیسز رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبر پختونخوا میں میں ڈینگی وائرس کے مریضوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے، صوبہ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 77 مریضوں میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی ہے۔
ترجمان محکمہ صحت خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 32 مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا، جس کے بعد اسپتالوں میں زیرِ علاج مریضوں کی مجموعی تعداد 98 تک جا پہنچی ہے، یوں صوبے بھر میں رواں سال کے دوران ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 2 ہزار 880 تک پہنچ گئی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں چارسدہ اور مردان سرِفہرست ہیں، جہاں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال چارسدہ اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں 21 مریض زیرِ علاج ہیں۔ پشاور کے تین بڑے اسپتالوں میں بھی ڈینگی کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں 11، لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 7 اور خیبر ٹیچنگ اسپتال میں 5 مریض زیرِ علاج ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ڈی ایچ کیو ہری پور میں 17، ڈی ایچ کیو باجوڑ میں 6، ایوب ٹیچنگ اسپتال ایبٹ آباد میں 3، باچا خان میڈیکل کمپلیکس صوابی میں 5 جبکہ مفتی محمود میموریل اسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں 2 مریضوں کا علاج جاری ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں ڈینگی کے فعال کیسز کی تعداد 276 تک پہنچ چکی ہے، ضلع چارسدہ اس وقت سب سے زیادہ خطرے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں صرف ستمبر کے دوران 256 کیسز رپورٹ ہوئے۔
تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ صوبے بھر میں اب تک ڈینگی وائرس سے کسی بھی مریض کی موت واقع نہیں ہوئی، اور تمام متاثرہ افراد کو بروقت علاج و معالجے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔