مریم نواز اور بلاول بھٹو نے میڈیا کو ایک نیا موضوع دیا ہے، رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ کہ چیئرمین پی پی کی پریس کانفرنس کے بعد بات شروع ہوئی تھی، ان کی تجاویز سے وزیراعلیٰ پنجاب نے اتفاق نہیں کیا تھا، دونوں ہی اپنی پارٹیوں کے لیڈر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے میڈیا کو ایک نیا موضوع دیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس کے بعد بات شروع ہوئی تھی، بلاول کی تجاویز سے مریم نواز نے اتفاق نہیں کیا تھا، بلاول بھٹو اور مریم نواز دونوں اپنی پارٹیوں کے لیڈر ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف واپس آکر صدر آصف علی زرداری سے بات کریں گے، جب وزیراعظم بات کریں گے تو معاملہ حل ہو جائے گا، اس معاملے میں میاں نوازشریف، شہباز شریف، آصف زرداری مداخلت کر سکتے ہیں
۔ مشیر وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ایک طرف سے پریس کانفرنس ہوگی تو دوسری طرف سے بھی ہوگی، اب میڈیا کو نیا موضوع ملا ہے ورنہ پہلے تو اڈیالہ جیل سے متعلق ہی باتیں ہوتی تھیں، مریم نواز اور بلاول بھٹو نے میڈیا کو ایک نیا موضوع دیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا مزید کہنا تھا کہ جھٹکے آتے رہیں گے لیکن یہ نظام چلے گا، سیلاب زدگان کو تو ہم نے مہمان بنایا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو مریم نواز نیا موضوع میڈیا کو
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔