اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، 200 سے زائد انسانی حقوق کارکن گرفتار کرلئے، دنیا بھر میں مذمت جاری
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ، 200 سے زائد انسانی حقوق کارکن گرفتار کرلئے، دنیا بھر میں مذمت جاری WhatsAppFacebookTwitter 0 2 October, 2025 سب نیوز
تل ابیب/غزہ:(آئی پی ایس) اسرائیلی فوج نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے عالمی قافلے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کر کے کئی کشتیوں کو روک لیا اور سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ سمیت متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
عرب میڈیا کے مطابق صمود فلوٹیلا میں 40 سے زائد کشتیوں پر تقریباً 500 انسانی حقوق کے کارکنان، پارلیمنٹیرینز، وکلا اور صحافی سوار تھے، جو غزہ کے عوام تک ادویات اور خوراک پہنچانے کے مشن پر روانہ ہوئے تھے۔ فلوٹیلا اس وقت جنگ زدہ علاقے سے تقریباً 90 میل دور تھی جب اسرائیلی بحریہ نے اس کا گھیراؤ کیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر کہا کہ ’’صمود فلوٹیلا کے جہازوں کو بحفاظت روک دیا گیا ہے‘‘ اور گرفتار کارکنان کو اسرائیلی بندرگاہ اشدود منتقل کیا جا رہا ہے۔ وزارت نے ایک ویڈیو بھی جاری کی، جس میں گریٹا تھنبرگ کو لے جاتے دکھایا گیا ہے۔
دوسری جانب صمود فلوٹیلا انتظامیہ نے تصدیق کی کہ صیہونی فوجی کشتیوں پر سوار ہو گئے اور جہازوں پر نصب کیمروں کو بھی بند کر دیا۔ فلوٹیلا کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن یاسمین آقار نے کہا کہ ’’اسرائیلی بحری جہازوں نے ہماری کشتی الما کو گھیر لیا ہے، ہم روک لیے جانے کے لیے تیار ہیں‘‘۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کی ویڈیو میں ایک نیول افسر فلوٹیلا کو راستہ بدل کر اشدود کی بندرگاہ جانے کا کہہ رہا ہے، تاکہ امداد کی سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد اسے غزہ بھیجا جا سکے۔ تاہم فلوٹیلا کے منتظمین نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق انسانی ہمدردی کی امداد کو روکنا غیر قانونی ہے۔
فلوٹیلا کے ایک مسافر خوسے لوئس یبوت نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’’ہمارے اردگرد تقریباً دو درجن اسرائیلی جہاز ہیں، وہ ہمیں گرفتار کرنے آ رہے ہیں‘‘۔
بین الاقوامی ردعمل
اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کارکنوں کے خلاف تشدد استعمال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ کشتیوں پر موجود غیر ملکی شہریوں کو ممکنہ طور پر اسرائیل منتقل کرنے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
اٹلی کی سب سے بڑی یونین نے بھی فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی کے خلاف عام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر خوراک، ادویات اور ضروری سامان کو غزہ میں داخلے سے روک رہا ہے، جس سے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
گرفتار کارکنوں کے بیانات
فلوٹیلا میں شامل امریکی کارکن لیلیٰ ہیگزی کا پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا:
’’اگر آپ میری ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے اسرائیلی فوج نے اغوا کر لیا ہے۔ یہ اقدام غیر قانونی ہے۔ میں عالمی برادری اور امریکی حکومت سے مطالبہ کرتی ہوں کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں اسرائیل کی حمایت بند کی جائے اور تمام کارکنوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے۔‘‘
پس منظر
یاد رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کئی یورپی اور عرب ممالک کے کارکنوں کی مشترکہ کاوش ہے، جو اسرائیل کی غزہ پر عائد سخت ناکہ بندی توڑنے کے لیے عالمی سطح پر سرگرم ہے۔ اسرائیل متعدد بار وارننگ دے چکا تھا کہ وہ فلوٹیلا کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ کی جانب بڑھنے والے امدادی فلوٹیلا پر اسرائیل کا سائبر حملہ، مواصلاتی نظام مفلوج کر دیا غزہ کی جانب بڑھنے والے امدادی فلوٹیلا پر اسرائیل کا سائبر حملہ، مواصلاتی نظام مفلوج کر دیا اگلے مالی سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قطر پر حملہ امریکی امن و سلامتی کیلئے خطرہ سمجھا جائیگا، ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی جائز مطالبات ماننے کو تیار ہیں ، وزیراعظم آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت آزاد کشمیر، عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح بلوائیوں کا پولیس پر حملہ، 3اہلکار شہید، 9زخمیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: گلوبل صمود فلوٹیلا اسرائیل کا فلوٹیلا پر پر حملہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔