Express News:
2026-06-03@05:40:47 GMT

پیپلزپارٹی کا کھیل

اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT

سیاسی جماعتیں ووٹ بینک کے حصول کی سیاست کرتی ہیں۔ ان کی ہر سیاسی سرگرمی اپنے ووٹرز کو مطمئن کرنے بلکہ ووٹ بڑھانے کے لیے ہوتی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کہ سیاسی جماعتیں اپنے ووٹ بینک کی قیدی ہوتی ہیں۔ ان کی حمائت اور مخالفت بھی ووٹ بینک کے تناظر میں ہی ہوتی ہے۔

ووٹ بینک کے خلاف سیاست ووٹ بینک میں کمی بلکہ خاتمے کے نتائج دیتی ہے۔ اس لیے میں سیاسی جماعتوں کی پالیسی کو ان کے ووٹ بینک کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ ووٹ بینک پر مصلحت اقتدارکے لیے ممکن ہے لیکن اس کے اچھے نتائج نہیں ہوتے۔

آجکل مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے درمیان لڑائی کو بھی ووٹ بینک کی سیاست کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اس لڑائی کو ووٹ بینک کے تناظر میں دیکھیں تو بات آسانی سے سمجھ آجائے گی۔لڑائی پنجاب کی ہے۔ پنجاب میں دو ووٹ بینک ہیں۔ ایک تحریک انصاف کا ووٹ بینک ہے، دوسرا مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک ہے۔ پیپلزپارٹی کا ووٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پیپلزپارٹی کبھی پنجاب میں بڑا ووٹ بینک تھا۔ لیکن آج وہ اپنا یہ ووٹ بینک کھو چکی ہے لیکن وہ پنجاب میں اپنے ووٹ بینک کی بحالی چاہتی ہے۔

 پیپلزپارٹی تحریک انصاف کا ووٹ بینک حاصل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ تحریک انصاف کی سیاسی حمائت کرنے سے ممکن نہیں۔ پیپلز پارٹی ن لیگ کا ووٹ بینک بھی ان کے ساتھ اتحاد کے ہوتے ہوئے حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے ووٹ بینک کے لیے اسے کچھ کرنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں ن لیگ کا مخالف ووٹ بینک حاصل کرنا چاہتی ہے۔ روائتی طور پر بھی پیپلزپارٹی کے پاس پنجاب میں ن لیگ کا مخالف ووٹ بینک رہا ہے۔

پیپلزپارٹی سوچ رہی ہے کہ پنجاب میں تحریک انصاف نے اس کے ووٹ بینک پر قبضہ کیا تھا۔ یہ روائتی طور پر ن لیگ کا مخالف ووٹر ہے۔ اس لیے اس ووٹر کو واپس پیپلزپارٹی میں لانے کے لیے ن لیگ کی سب سے بڑی مخالف جماعت بننا ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ چند برسوں سے پیپلزپارٹی کو بادل نخواستہ ن لیگ کے ساتھ مل کر سیاست کرنا پڑ رہی ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ ن لیگ کی حمایت کی وجہ سے اس کا روائتی ن لیگ مخالف ووٹر ناراض ہو کر تحریک انصاف میں چلا گیا۔

اس لیے ووٹ بینک کی واپسی کے لیے ن لیگ کی مخالفت ضروری ہے۔ اسی لیے ہم پنجاب میں ن لیگ کی مخالفت دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی ہے۔ ایک رائے کہ اگلے انتخابات تک شاید تحریک انصاف کمزور سے کمزور ہوتی جائے گی۔ بانی کافی حد تک مائنس ہو جائیں گے۔

ن لیگ مخالف ووٹر کے پاس کوئی چوائس نہیں۔ پیپلزپارٹی وہ چوائس بننا چاہتی ہے۔ وہ ن لیگ کا مخالف ووٹ بینک حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے وہ مریم نواز کی مخالفت کر رہی ہے۔ ورنہ مخالفت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ لیکن یہ اگلے الیکشن کی تیاری ہے۔

ن لیگ کو اس بات کی سمجھ ہے، انھیں پی پی پی کی مجبوریوں کا بھی اندازہ ہے۔ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ پنجاب میں اسے ن لیگ کے خلاف کھل کر کھیلنا چاہیے۔تا کہ ووٹر انھیں ن لیگ کا حقیقی مخالف سمجھ سکے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ ووٹر بہت سمجھدار ہوتا ہے۔ وہ جعلی کھیل کے جھانسے میں نہیں آتا۔ جعلی لڑائی سب کی سمجھ میں آجاتی ہے۔اس لیے لڑائی کو اصلی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ پنجاب حکومت کے ساتھ اس کی اصلی لڑائی ہو جائے لیکن مرکز جیسا ہے ویسا ہی چلتا رہے۔

پیپلزپارٹی کا خیال ہے کہ ان کے پاس کوئی وزارتیں نہیں ہیں۔ کوئی حکومتی عہدے نہیں ہیں۔ وہ مرکز میں بھی ن لیگ کی مخالفت کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کی ایک ہی مجبوری ہے کہ وہ شہباز شریف کی حکومت گرا نہیں سکتے۔ اب ن لیگ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اکیلے بھی کام چلا سکتی ہے۔ صرف اہم موقعوں پر مدد چاہیے ہوگی۔ پیپلزپارٹی حکومتی بینچز پر بیٹھ کر اپوزیشن بننے کا سوچ رہی ہے۔

اس لیے مجھے اب پیپلزپارٹی اور پنجاب کی ن لیگ کے درمیان پائیدار صلح نظر نہیں آرہی۔ ندیم افضل چن کے پاس اسکرپٹ ہے۔ قائرہ صاحب کے پاس بھی اسکرپٹ ہے۔ ان کو ن لیگ کو چیلنج کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھ رہے ہیں کہ سب کورس میں ن لیگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس پر حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پیپلزپارٹی ن لیگ کا مخالف ووٹ بینک دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ ایک لمبا کھیل ہے۔ اگلے الیکشن تک چلنا ہے۔ مقتدر ہ بھی اس کھیل سے پریشان نہیں۔ وہ سسٹم کو خطرہ نہیں دیکھ رہے۔

 سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کاووت بینک پیپلزپارٹی میں جا سکتا ہے؟ کیا تحریک انصاف کے ووٹر کی پیپلزپارٹی چوائس ہو سکتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں اب یہ ممکن نہیں۔ وہ کسی نئے پلیٹ فارم کی طرف تو جا سکتا ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کی طرف نہیں جا سکتا۔ لیکن اس حوالے سے دلیل ہے کہ کوشش میں کرنے میں کیا حرج ہے۔ تھوڑا سا بھی مل گیا تو سودا برا نہیں ہے۔ چند سیٹیں ہی نکل آئیں۔ چند حلقوں میں جہاں پیپلزپارٹی کے پاس اچھے امیدوار ہیں۔ وہاں نتائج آسکتے ہیں۔ تحریک انصاف سے ناراض لوگ پیپلزپارٹی میں آسکتے ہیں۔

وہ بھی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ نئی سیاسی جماعتوں میں جانے کا فارمولہ بھی فیل ہو گیا ہے۔ اس لیے جو لوگ ن لیگ کے مخالف الیکشن لڑتے ہیں، ان کے لیے پیپلزپارٹی ایک چوائس بننا چاہتی ہے۔ آپ اس کھیل کی کامیابی اور نتائج پر بات کر سکتے ہیں۔ لیکن کھیل یہی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ آپ کو سینیٹ میں بائیکاٹ نظر آرہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں تقاریر نظر آرہی ہیں۔ پریس کانفرنسیں نظر آرہی ہے۔ سب ایک ماحول بنایا جا رہا ہے۔ تا کہ ووٹر کو یقین آجائے۔ لیکن ن لیگ کے لیے مشکلات ہیں۔ ایک طرف تحریک انصاف کی مخالفت دوسری طرف پیپلزپارٹی کی مخالفت۔ لیکن اقتدار کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ ادا کرنی پڑتی ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ن لیگ کی مخالفت کے تناظر میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک ووٹ بینک کے ووٹ بینک کی میں ن لیگ چاہتی ہے سکتے ہیں ن لیگ کے رہے ہیں لیکن ا کے لیے رہی ہے اس لیے کے پاس

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود