اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف ٹرائل کورٹس کے ججز سے منسوب بیان پر دائر توہینِ عدالت کی درخواست قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ درخواست قابلِ سماعت بھی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ججز کو خود بتانا چاہیے کہ ان کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے، اگر کوئی اور آکر یہ دعویٰ کرے گا تو اس سے مختلف تاثر جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:

درخواست گزار حافظ احتشام احمد نے ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ایمان مزاری نے پریس کلب کے باہر تقریر میں یہ تاثر دیا کہ ججز میں تقسیم ہے اور ٹرائل کورٹس کے ججز پر دباؤ ہے۔

اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہیں پر رک جائیں، آگے ایک لفظ بھی نہ بولیے گا۔

’کسی کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن اس عدالت میں کوئی تقسیم نہیں ہے۔‘

مزید پڑھیں:

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس عدالت میں کسی قسم کی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ اگر کسی جج نے کوئی شکایت کی ہے تو وہ سامنے لائیں، ورنہ محض کسی تقریر کو توہینِ عدالت قرار دینا درست نہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اچھے جج بھی ہوتے ہیں اور نالائق جج بھی، اس حقیقت کا ذکر کرنا توہین عدالت نہیں کہلاتا۔

’ہر کسی کو آزادی اظہارِ رائے حاصل ہے، چاہے وہ اخبار پڑھتا ہو یا وی لاگ سنتا ہو۔‘

مزید پڑھیں:

دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسلام آباد ہائیکورٹ ایمان مزاری پریس کلب توہین عدالت ٹرائل کورٹس جسٹس محسن اختر کیانی حافظ احتشام احمد وی لاگ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ایمان مزاری پریس کلب توہین عدالت ٹرائل کورٹس جسٹس محسن اختر کیانی حافظ احتشام احمد وی لاگ جسٹس محسن اختر کیانی ایمان مزاری

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری