دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا کی مالی امداد نہ ہوتی تو اسرائیل غزہ میں حماس کے خلاف جنگی مہم جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے پہلے سال، جب صدر جو بائیڈن اقتدار میں تھے، 17.9 ارب ڈالر فراہم کیے، جبکہ دوسرے سال یہ امداد 3.8 ارب ڈالر رہی۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکا نے اسرائیل کو کم از کم 21.

7 ارب ڈالر کی عسکری امداد فراہم کی ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا ہے، جو 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کی دوسری برسی پر جاری ہوئی۔ عرب نیوز کے مطابق، یہ رپورٹ براؤن یونیورسٹی کے واٹسن اسکول آف انٹرنیشنل اینڈ پبلک افیئرز کے کاسٹس آف وار پروجیکٹ نے تیار کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے گذشتہ دو برسوں میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی امداد اور عسکری کارروائیوں پر تقریباً 10 ارب ڈالر اضافی خرچ کیے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعداد و شمار زیادہ تر اوپن سورس مواد پر مبنی ہیں، مگر یہ اسرائیل کو دی جانے والی امریکی امداد اور خطے میں امریکی مداخلت کے تخمینے کا جامع تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا کی مالی امداد نہ ہوتی تو اسرائیل غزہ میں حماس کے خلاف جنگی مہم جاری نہیں رکھ سکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکا نے پہلے سال، جب صدر جو بائیڈن اقتدار میں تھے، 17.9 ارب ڈالر فراہم کیے، جبکہ دوسرے سال یہ امداد 3.8 ارب ڈالر رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امداد کا کچھ حصہ پہلے ہی اسرائیل کو فراہم کیا جا چکا ہے، جبکہ بقیہ رقم آئندہ برسوں میں دی جائے گی۔ یہ رپورٹ واشنگٹن کے کوئنسی انسٹیٹیوٹ فار ریسپانسبل اسٹیٹ کرافٹ کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔ ادارے پر اسرائیل مخالف مؤقف رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے، تاہم اس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا نے گذشتہ دو برسوں میں یمن میں حوثی مجاہدین اور ایران کی تنصیبات پر حملوں سمیت اپنی وسیع تر عسکری سرگرمیوں پر 9.65 ارب سے 12 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں، جس میں جون 2025ء کے ایرانی حملوں سے متعلق 2 ارب ڈالر کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق حماس نے امریکا کے امن منصوبے کے چند نکات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کو امریکا نے رپورٹ میں گیا ہے کہ کے مطابق ارب ڈالر فراہم کی

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف