وینزویلا میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی سازش ناکام بنادی گئی، حکومتی دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے انکشاف کیا ہے کہ ملکی سیکورٹی اداروں نے امریکی سفارت خانے پر بم دھماکے کی ایک بڑی سازش ناکام بنادی۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق انہوں نے بتایا کہ منصوبہ اس طرح بنایا گیا تھا کہ سفارت خانے پر حملہ کرکے الزام حکومت پر لگایا جائے تاکہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو مزید خراب کیا جا سکے۔
صدر مادورو کا کہنا تھا کہ حکومت کو ایک ملکی اور ایک بین الاقوامی ذریعے سے اطلاع ملی تھی کہ مقامی دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر امریکی سفارت خانے میں بم نصب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
صدر نے بتایا کہ جیسے ہی یہ اطلاعات موصول ہوئیں، فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سفارت خانے کے اطراف سیکورٹی سخت کردی اور منصوبہ ناکام بنا دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سازش کے پیچھے موجود افراد کے نام جلد منظر عام پر لائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ 2019ء میں امریکا اور وینزویلا کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد امریکی سفارت خانہ بند ہے اور وہاں صرف محدود حفاظتی عملہ موجود ہے۔ اس کے باوجود واشنگٹن اور کاراکاس کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں اپنے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل کو ہدایت دی ہے کہ وینزویلا سے تمام مذاکرات ختم کردیے جائیں، جب کہ امریکی بحری جہاز اور ایف-35 لڑاکا طیارے وینزویلا کے قریب تعینات ہیں۔ واشنگٹن نے وینزویلا پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے صدر مادورو کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر کردی ہے۔
وینزویلا کے صدر نے ان الزامات کو اپنی حکومت گرانے کی امریکی سازش قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کا اصل مقصد وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی ہے تاکہ ملکی وسائل پر قبضہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وینزویلا عوام دشمن طاقتوں کے مقابلے میں متحد ہیں اور کسی غیر ملکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی سفارت وینزویلا کے سفارت خانے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔