دنیا کے ان علاقوں میں جہاں جدید طبی سہولیات ناپید ہیں، وہاں ایک ایسا طیارہ ہے جو صرف پرواز نہیں کرتا بلکہ بینائی، امید اور زندگی بانٹتا ہے۔ یہ ہے فلائنگ آئی اسپتال! دنیا کا واحد فضائی اسپتال جو بینائی کی بحالی کے مشن پر پوری دنیا کا سفر کر رہا ہے۔

آج یہ اسپتال دبئی پہنچا ہے، جہاں اسے ایک اہم اسٹاپ اوور کے لیے مدعو کیا گیا ہے، تاکہ اس کے مشن، سہولیات اور خدمات کو مزید نمایاں کیا جائے۔

قیام اورتاریخ

فلائنگ آئی اسپتال دراصل اوربِس انٹرنیشنل کا ایک غیرمعمولی منصوبہ ہے، جو 1982 میں شروع ہوا، جب یو ایس ایڈ اور دیگر اداروں نے ایک خواب دیکھا کہ اگر مریض اسپتال تک نہیں پہنچ سکتے تو اسپتال ان تک جائے۔

ابتدائی اسپتال ایک ڈی سی 8 طیارے میں قائم کیا گیا، پھر ڈی سی 10 ماڈل اوراب ترمیم شدہ ایم ڈی 10 طیارہ استعمال کیا جاتا ہے، جو فیڈ ایکس کی جانب سے عطیہ کیا گیا ہے۔

جہاز میں دستیاب طبی و دیگر سہولیات

طیارے میں قائم فلائنگ آئی اسپتال عام طیارے سے بالکل مختلف ہے، اس میں آپریشن تھیٹراور تقریباً 46 نشستوں پر مشتمل تھری ڈی کلاس روم سمیت ریکوری روم، سیمولیشن لیب اورآن لائن تربیتی نظام عالمی مواصلاتی نیٹ ورک بھی شامل ہے۔

طیارے کے اندر مقامی سرجنز، نرسز اور ماہرین کو جدید آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے اور براہِ راست آپریشن سے انہیں عملی تجربہ ملتا ہے۔

یہ اڑتا اسپتال ورچوئل ریالٹی اورسائبر لرننگ نظام سے لیس ہے، اس میں ہائی ڈیفینیشن ویڈیو سسٹم جو دنیا بھر میں براہِ راست تربیت نشر کرتا ہے، اس کی سیمولیشن لیب میں مصنوعی آنکھوں پر سرجری کی مشقیں بھی ممکن ہیں۔

مشن اور ہدف

اوربس انٹرنیشنل کا مقصد دنیا سے قابلِ علاج نابینا پن کو ختم کرنا ہے، اس اڑتے اسپتال کے ہر دورے کے دوران آنکھوں کے مفت چیک اپ اور سرجریز کی جاتی ہیں اور مقامی طبی ماہرین کو جدید تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

تمام اخراجات عطیات اور شراکت داروں کی مالی مدد سے پورے کیے جاتے ہیں۔

عالمی سفر

فلائنگ آئی اسپتال اب تک بنگلہ دیش، منگولیا، ایتھوپیا، نائیجیریا سمیت 80 سے زائد ممالک کا دورہ کر چکا ہے، اپنے سفری اڑان کے دوران طیارے میں قائم یہ اسپتال دبئی کو اکثر ایک اسٹریٹجک اسٹاپ اوور کے طور پر استعمال کرتا ہے، تاکہ طبی ساز و سامان کا اسٹاک پورا کیا جاسکے اور طیارے کی ناگزیر دیکھ بھال کا عمل بھی مکمل کیا جاسکے۔

پاکستان کے لیے اہمیت

پاکستان میں لاکھوں افراد بینائی کے مسائل کا شکار ہیں، جن میں سے کئی قابل علاج حالتوں سے دوچار ہیں۔

پاکستان آنے کی صورت میں یہ اسپتال ہزاروں امراض چشم میں مبتلا مریضوں کو طبی علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی ماہرین کو بین الاقوامی معیار کی تربیت دینے کا سنہری موقع ہوگا۔

 شراکت دارادارے

اوربس انٹرنیشنل کے اس اڑتے اسپتال کا منصوبہ مقامی اورعالمی عطیات کی مرہون منت ہے، جس میں جی ای ایرواسپیس، فیڈایکس، اومیگا اور دیگر ادارے اس کی مالی، تکنیکی اورلاجسٹک معاونت کرتے رہے ہیں، جی ای ایرواسپیس کے رضا کار اس وقت دبئی پہنچ کرجہاز میں قائم اس اسپتال کی سہولیات کو تمام تر ممکنہ استعمال کے لیے تیار رکھنے میں مصروف ہیں۔

اثرات اور کامیابیاں

اوربس انٹرنیشنل اپنے اس اڑتے اسپتال کے ذریعے اب تک امراض چشم میں مبتلا ہزاروں افراد کی سرجریاں کی جا چکی ہیں اور کروڑوں افراد کی بصیرت بحال ہوچکی ہے، دوسری جانب ہزاروں طبی ماہرین کو درکار تربیت فراہم کرکے ان کے ذریعے مختلف ممالک میں صحت عامہ کی پالیسوں میں آنکھوں کی صحت کو شامل کیا جاچکا ہے۔

عالمی سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت میں مصروف یہ فلائنگ آئی اسپتال نہ صرف ایک ’طبی جہاز‘ بلکہ امید کا پیغام بھی ہے، اس منصوبے نے ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خدمت کی ہو، تو آسمان میں بھی اسپتال بن سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڑتا اسپتال امید اوربس انٹرنیشنل طیارہ فلائنگ آئی اسپتال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوربس انٹرنیشنل طیارہ فلائنگ ا ئی اسپتال فلائنگ آئی اسپتال اوربس انٹرنیشنل ماہرین کو کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق