نیو کراچی ٹاؤن اور اسٹیٹ لائف کے درمیان گروپ انشورنس کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیو کراچی ٹاؤن اور اسٹیٹ لائف انشورنس پاکستان کے درمیان ملازمین کے لیے گروپ انشورنس کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب نیو کراچی ٹاؤن آفس میں منعقد ہوئی جس میں اسٹیٹ لائف انشورنس پاکستان کا نمائندہ وفدکے سر براہ G I کمالی، چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف، وائس چیئرمین شعیب بن ظہیراور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے افسر سید محمد سلمان شریک ہوئے۔اس موقع پر چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے کہا کہ یہ معاہدہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ملازمین کی فلاح و بہبود کے لیے ایک عملی قدم ہے اور نیو کراچی ٹاؤن اسٹیٹ لائف انشورنس پاکستان کو سالانہ 7457406(چوہترلاکھ ستاون ہزار چار سو چھ روپے ) پرئمیم کی مد میں ادا کرے گا ،انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور کے ایم سی کے طے شدہ ضوابط کے مطابق ہر بلدیاتی ادارے کے لیے اسٹیٹ لائف انشورنس کے ساتھ گروپ انشورنس کا معاہدہ کرنا لازم ہے، اور آج یہ قانونی تقاضہ نیو کراچی ٹاؤن کی سطح پر بخوبی پورا کر لیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ لائف انشورنس نیو کراچی ٹاو ن
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔