اسلامی بینکوں کی عبایہ پالیسی بے بنیاد قرار، اسٹیٹ بینک نے لاتعلقی ظاہر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان اسلامی بینکوں کے خلاف کارروائی کرے جو خواتین ملازمین کے لیے عبایہ پہننا لازمی قرار دے رہے ہیں۔
سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر زرقا سہروردی نے نشاندہی کی کہ بعض اسلامی بینکوں نے خواتین اسٹاف پر زبردستی عبایہ پہننے کی پابندی عائد کر دی ہے۔
جس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے اسٹیٹ بینک سے استفسار کیا کہ آخر کس قانون یا اختیار کے تحت بینک اس قسم کی شرط نافذ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی بینک پاکستان میں کتنی شرح سود پر کام کررہے ہیں؟
اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے بتایا کہ ادارہ اس صورتحال سے آگاہ ہے، اگرچہ تمام اسلامی بینکوں میں ایسا نہیں ہو رہا، لیکن کچھ بینکوں نے واقعی ایسی لازمی پابندی متعارف کرائی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسٹیٹ بینک نے اس نوعیت کی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک باضابطہ حکم نامہ جاری کرے کہ خواتین ملازمین کو زبردستی عبایہ پہننے پر مجبور نہ کیا جائے، کیونکہ شلوار قمیص اور دوپٹہ بھی مکمل طور پر باوقار اور اسلامی لباس ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلامی ریاست کی اصل بنیاد سماجی انصاف ہے، احسن اقبال
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ اسلامی بینکوں کی اپنی مارکیٹنگ حکمتِ عملی ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ملک میں اسلامی بینکاری صرف نام کی حد تک اسلامی ہے جبکہ طریقہ کار تقریباً روایتی بینکاری جیسا ہے۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک کو فوری ہدایات جاری کرنے کی تاکید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر احکامات نہ دیے گئے تو کمیٹی ایسے بینکوں کو اپنے اجلاس میں طلب کرے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک اسلامی بینک ایف بی آر خزانہ راشد لنگڑیال سلیم مانڈوی والا سینیٹ شلوار قمیص عبایہ قائمہ کمیٹی مارکیٹنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک اسلامی بینک ایف بی ا ر راشد لنگڑیال سلیم مانڈوی والا سینیٹ شلوار قمیص عبایہ قائمہ کمیٹی مارکیٹنگ سلیم مانڈوی والا اسلامی بینکوں اسلامی بینک اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔