Juraat:
2026-06-03@04:23:09 GMT

غزہ کاامن اور انعام کا جنون

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

غزہ کاامن اور انعام کا جنون

حمیداللہ بھٹی

کیادوریاستی حل مشرقِ وسطیٰ کے امن کا ضامن ثابت ہو گا ؟اِس حوالے سے وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر امریکی صدر کے حماس پر دبائو سے واضح ہے کہ امن منصوبہ تسلیم کرلیاجائے گااورمصر کے سیاحتی شہر شرم الشیخ میں اسرائیل اور حماس کے بالواسطہ مزاکرات میں قیدیوں کے تبادلے کا طریقہ کار بھی طے پاجائے گا۔ امن منصوبے کے نتائج کا دنیا کوہی شدت سے انتظار نہیں بلکہ امریکی صدر بھی یقینابے چین ہوں گے کیونکہ نوبل انعام تقسیم کرنے کے لیے نامزدگی کاعمل رواں ماہ چھ اکتوبر سے شروع ہوچکا ہے جو تیرہ اکتوبر مکمل ہوجائے گا جس کا حصول امن منصوبے کے نتائج پرہے مگر ایسے حالات میں جب قطر اور مصر کے اہلکار مزاکرات میں فریقین سے امن منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں پھربھی غزہ پر اسرائیل بمباری کررہا ہے۔ فضائی حملے جاری ہیں جنونی فوجی بھی قتل عام میں مصروف ہیں تاکہ سیز فائر سے قبل زیادہ سے زیادہ شہری آبادی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ وحشت و سفاکیت ہے جسے دفاع کا حق نہیں کہہ سکتے۔ یہ تو ایک طاقتور وحشی کا کمزور پرظلم وجبرہے۔ اِتنے جرائم میں شریکِ کارہونے کے باوجودٹرمپ کی طرف سے نوبل انعام کی آرزوباعث تعجب ہے۔
حق حکمرانی سے دستبرداری حماس کے لیے مشکل مرحلہ ضرورہے لیکن ناممکن نہیں کیونکہ ایسا کرنے کے سوا اُس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ البتہ غزہ سے اسرائیل کا مکمل طورپر فوجی انخلا ہونا کسی صورت ممکن نہیں کیونکہ اُسے امریکی حمایت اور اسلحے کی فراہمی جاری ہے۔ اِس لیے آپشن بھی لامحدودہیں۔ سات اکتوبر 2023کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے حماس کو مسلسل مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ میرا شروع سے موقف رہا ہے کہ حماس نے حملے کی حماقت کی ہے اب اِس کے نتائج غزہ کے عام مکین بھگتیں گے ۔ وہی ہوا جس کا خدشہ تھا اسرائیل نے وحشیانہ حملوں سے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ا سکولوں ،ہسپتالوں ،رہائشی عمارتوں اور امدادی مراکز کو ملبے کا ڈھیر بنا دیااور اب ناکہ بندی سے معصوم شہریوں کو بھوک و پیاس سے ماررہا ہے۔ یہ درندگی ہی دنیا کو جگانے کا باعث بنی دنیا کے چوالیس ممالک کے رضا کار اپنی حکومتوں کی لاتعلقی کے باوجودغزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ صمودفلوٹیلا کے نام سے حال ہی میں پچاس کشتیوں کے ذریعے پانچ سو رضا کارغزہ کے قریب گرفتار ہوئے۔ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اورایران میں حماس رہنمااسمعیل ہانیہ کو نشانہ بنایا۔ امریکی اتحادی قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس وفد پر حملہ کیا ۔خطے کاامن برباد کرنے کے لیے امریکہ نے اسرائیل کو دفاع کے نام پرکُھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ غزہ میں امن کے لیے جب بھی اقوامِ متحدہ میں قرارداد پیش کی گئی۔ امریکہ مسلسل ویٹو کررہاہے۔ ٹرمپ غزہ نسل کشی کے جُرم میں شریک کار ہے۔ اِن حالات میں امن کا نوبل انعام دنیا انصاف نہیں طاقتور کے آگے جھکنا ہوگا۔
پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک نے غزہ جنگ بندی کے لیے حماس کے مثبت ردِ عمل کا خیر مقدم کیا ہے مگر حکومتوں کی طرف سے سراہنے کے باوجودعوام کو تحفظات ہیں ۔خیر حماس کے پاس ایسا متبادل ہی نہیں کہ وہ اِس کے سواکچھ اور سوچ سکے جب ہر بار اقوامِ متحدہ میں امن کی قرارداد کو امریکہ ویٹو کر دیتا ہے اور ایک برس سے غزہ میں ادویات ،کھانے پینے کی اشیا سمیت صاف پانی تک کی قلت ہے۔ ایسے حالات میں حماس کی رضامندی ایک قسم کی مجبوری ہے ۔یہ مجبوری ہی امریکی صدر کی ناپسندیدہ شرائط کو تسلیم کرنے کا موجب ہے۔ حماس کی طرف سے اپنااسلحہ خود مختار فلسطینی ریاست کے حوالے کرنے کا وعدہ معاملات سے الگ ہونے کی طرف اِشارہ ہے لیکن ایسے حالات میںجب دنیا کے تجزیہ کار متفق ہیں کہ ایک مکمل طور پر آزاد وخود مختار فلسطینی ریاست کا ظہور ناممکن ہے توسوال یہ ہے کہ حماس اپنا اسلحہ کس کے حوالے کرے گی؟ اسرائیل کیسے اور کب فوجی انخلا کرے گا؟ بظاہر ایسے کئی سوالات ہیں جن کاکسی کے پاس جواب نہیں توسوال یہ ہے کہ جب غزہ کا امن بحال نہیں ہو نا تو امن کا نوبل انعام کا جنون کیونکرہے؟
79سالہ امریکی صدر ٹرمپ کو اپنی ذہانت اور معاملہ فہمی پر ناز ہے وہ ایک متکبر اور نمود ونمائش کا رسیا ایسا شخص ہے جسے اپنی ذات کے سواکسی کی کم ہی پرواہ ہوتی ہے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ سے زیادہ سوئیڈن کی بائیس سالہ گریٹا تھون برگ عوام میں زیادہ قابلِ اعتبار اور لائقِ احترام ہے جومظاہرے کی پاداش میں اپنے ملک میں بگرفتار ہوئی اورتمام تر نامساعد حالات کے باوجود غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے کی عملی کوشش کی۔ ٹرمپ سے تو اُن کے اپنے ملک کی عوامی اکثریت بدظن ہے۔ فلسطینی تو ویسے بھی اُنھیں ناپسند کرتے ہیں ۔عین ممکن ہے مسلم حکمرانوں کی حمایت سے ٹرمپ ناانصافی پر مبنی اپنا امن منصوبہ منوا لے اور امن کا نوبل انعام بھی حاصل کر لے لیکن خطے میںحقیقی امن ملنے کے آثار کم ہیں۔ کیونکہ امن کی آڑ میں انھیں اسرائیل کومحفوظ و مستحکم بنانے کا جنون ہے۔ اسی لیے غزہ میں سیز فائر کی ہر کوشش کو ویٹوپاور سے ناکام بناکر اسرائیل کو قتل عام کے مواقع دیے سترہزار معصوم شہریوں کی خونریزی کرانے کے بعد امن کانوبل انعام لیناویسے ہی بے معنی ہوجاتا ہے۔
1994میں اوسلوامن معاہدے کے تین اہم کرداروں پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات ، اسرائیل کے دو سابق وزرائے اعظم شمعون پیریز اور اسحاق رابن کو بھی امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اِ ن میں اسحاق رابن کو تو ایک جنونی یہودی نے قتل کر دیا۔مزیدحیرانگی کی بات یہ کہ اِس قتل پر اسرائیل میں خوشیاں منائی گئیں۔اِس واقعہ سے اسرائیلیوں کی سوچ آشکارہوتی ہے کہ امن کے علمبرداروں کو وہ پسند نہیں کرتے اِسی لیے فلسطینیوں کو امن نصیب نہیں ہورہا۔غزہ کا قتلِ عام جدید دنیا کا ہولوکاسٹ ہے۔ خیر ٹرمپ کی بھی مسلم دشمنی کسی سے پوشید ہ نہیں ۔وہ نفرت چھپانے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ اِس کے باوجود مسلم ممالک کی طر ف سے نام نہادامن منصوبہ قبول کرنا سمجھ سے باہرہے اور ہاں غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانا یا توڑنا تو اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کی ذمہ داری تھی مگر یہ دونوں اِدارے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے جب سب کومعلوم ہے کہ ٹرمپ قتلِ عام کا سرپرست اور مذہبی تعصب رکھتاہے تو امن کا نوبل انعام حاصل کرنے میں مسلم ممالک کی سہولت کاری ناقابلِ فہم ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: امن کا نوبل انعام امریکی صدر ناکہ بندی حالات میں حماس کے ہیں کہ کے لیے کی طرف غزہ کی

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان