WE News:
2026-07-24@01:47:22 GMT

کراچی کی پہاڑیوں پر نایاب جنگلی بلی ’کراکل‘ کی جھلک

اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT

کراچی کی پہاڑیوں پر نایاب جنگلی بلی ’کراکل‘ کی جھلک

کراچی کے مغربی خشک پہاڑیوں میں نصب ایک خفیہ کیمرے نے نایاب جنگلی بلی کراکل کو علاقے سے گزرتے ہوئے ریکارڈ کیا ہے۔ یہ ویڈیو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں معدومی کے دہانے پر پہنچنے والی یہ خوبصورت مگر نایاب بلی اب بھی زندہ ہے۔

کراکل ایک درمیانے قد کی جنگلی بلی ہے جو افریقہ، مشرقِ وسطیٰ، وسطی اور جنوبی ایشیا کے خشک علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ ماہرینِ حیاتات کے مطابق پاکستان میں یہ نسل انتہائی خطرناک حد تک کم ہوچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگلی حیات کی اہمیت و افادیت اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہم جاری

ماہر وائلڈ لائف سعیدالاسلام کے مطابق مقامی افراد اکثر اپنی بکریوں، بھیڑوں یا ہرنوں کی حفاظت کے لیے کراکل کو مار دیتے ہیں، جبکہ بعض اوقات چھوٹے مویشیوں پر حملے کے بدلے میں انتقامی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی پالتو جانوروں کی تجارت کے لیے شکار بھی اس نسل کی بقا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

سعیدالاسلام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کراکل کی آبادی چند سو سے زیادہ نہیں، یعنی یہ تعداد ایک ہزار سے بھی کم رہ گئی ہے۔

سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے کنزرویٹر جاوید مہر کے مطابق یہ جنگلی بلی سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے چند علاقوں میں اب بھی پائی جاتی ہے، تاہم سرکاری اعداد و شمار نہ ہونے کے باعث اس کی درست آبادی جاننا ممکن نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ملک بھر میں اس کی تعداد 100 سے 200 کے درمیان ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خطرناک جنگلی بلی گھر سے فرار، حکام نے شہریوں کو خبردار کردیا

کراکل عموماً رات کے وقت شکار کرتی ہے اور نہایت محتاط و تنہا رہتی ہے۔ یہ پرندوں، چوہوں اور دیگر چھوٹے جانوروں کو شکار کرتی ہے اور اپنی پھرتی اور لمبی چھلانگوں کے باعث غیر معمولی شکاری صلاحیت رکھتی ہے۔

انڈس فشنگ کیٹ پروجیکٹ (IFCP) کے سربراہ ظفیر احمد شیخ کے مطابق کراکل اس وقت پاکستان میں صرف چند مخصوص علاقوں میں باقی رہ گئی ہے، جن میں پنجاب کا چولستان ریگستان، سندھ کا کیرتھر رینج اور بلوچستان کے وسطی و جنوبی پہاڑی علاقے شامل ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں کیرتھر نیشنل پارک کے جنوبی کنارے پر ایک کیمرہ ٹریپ نے کراکل کی جھلک ریکارڈ کی، جو کئی سالوں میں اپنی نوعیت کا پہلا مشاہدہ ہے۔

ماہر حیاتات زوہیب احمد نے بتایا کہ ٹیم نے کئی ہفتوں کی کوشش کے بعد یہ فوٹیج حاصل کی۔ ایک کیمرے سے 2 ہفتوں میں 400 کلپس حاصل ہوئیں، جن میں سے صرف ایک کلپ میں بالغ نر کراکل دکھائی دیا۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: بلیوشیپ ایوارڈ حاصل کرنے والے افسر کمال الدین جنگلی حیات کا تحفظ کیسے کرتے ہیں؟

ظفیر شیخ کے مطابق اسی علاقے میں حال ہی میں ایک کم عمر کراکل مقامی افراد کے ہاتھوں مارا بھی گیا، جو اس نسل کے لیے خطرے کی سنگین علامت ہے۔

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) پاکستان کے عہدیدار جمشید چوہدری کے مطابق کراکل اپنی قدرتی رہائش گاہ تیزی سے کھو رہی ہے۔ زرعی زمینوں کی توسیع، شہری ترقی، اور مویشیوں کی بے تحاشا چراگاہی سے نہ صرف کراکل بلکہ اس کے شکار بننے والے جانور بھی ناپید ہو رہے ہیں، جس سے خوراک کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی تعمیر نے بھی ان کے قدرتی راستوں کو کاٹ دیا ہے، اور چونکہ یہ جانور صبح اور شام کے وقت متحرک ہوتے ہیں، اس لیے گاڑیوں سے ٹکرانے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔

چوہدری کے مطابق کراکل کی کھال کے لیے غیر قانونی شکار اور پالتو جانوروں کی اسمگلنگ بھی اس نسل کے لیے خطرہ ہے۔

اگرچہ یہ سندھ وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت تحفظ یافتہ جانور ہے، تاہم عملدرآمد کی کمی کے باعث اس کی آبادی مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔

ماحولیاتی توازن میں کردار

ماہرین کا کہنا ہے کہ کراکل ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ چوہوں، چھوٹے ممالیہ اور پرندوں کی آبادی کو قدرتی طور پر کنٹرول میں رکھتی ہے، جس سے فصلوں کا نقصان، چرائی کی زیادتی اور بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی رہتی ہے۔

جمشید چوہدری کے مطابق اگر کراکل کی بقا ممکن بنائی جائے تو نہ صرف ایک نایاب شکاری نسل محفوظ ہو گی بلکہ اس کے ساتھ پورا ماحولیاتی نظام مستحکم رہے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت، وائلڈ لائف ادارے اور مقامی کمیونٹیز اگر مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں تو پاکستان میں کراکل کی معدومی کا خطرہ کم کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان پہاڑیاں جنگلی بلی خفیہ کیمرے کراچی کراکل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پہاڑیاں جنگلی بلی خفیہ کیمرے کراچی کراکل پاکستان میں وائلڈ لائف جنگلی بلی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار