حماس کا خاتمہ نہ کیا گیا تو حکومت گرا دوں گا، انتہا پسند اسرائیلی وزیر کی نیتن یاہو کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
اسرائیل کے دائیں بازو کے انتہاپسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس کو مکمل طور پر ختم نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی اور حکومت گرانے کے لیے ووٹ دے گی۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بن گویر نے واضح کیا کہ اگر حماس اپنے وجود کے ساتھ باقی رہی تو ہم ایسی حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی پارٹی قومی شکست اور رسوائی کا حصہ نہیں بن سکتی۔
انتہاپسند وزیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ وہ ایسے کسی سمجھوتے کے حق میں نہیں جو حماس کو معافی دینے یا فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا باعث بنے۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے تحت جن فلسطینی قیدیوں کی رہائی پر غور ہو رہا ہے، ہم قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے کے مطابق، مغویوں کی رہائی کے بعد حماس کے وہ ارکان جو ہتھیار ڈالنے اور پُرامن زندگی اپنانے پر آمادہ ہوں گے، انہیں عام معافی دی جائے گی، جبکہ باقی افراد کو غزہ چھوڑنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق، بن گویر کی تازہ دھمکی نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کے لیے نیا بحران پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ان کی حمایت کے بغیر حکومت کی پارلیمانی اکثریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بن گویر نے حکومت چھوڑنے کی دھمکی دی ہو۔ وہ ماضی میں بھی عارضی جنگ بندیوں اور قیدیوں کے تبادلے پر نیتن یاہو سے اختلافات کے باعث اتحاد سے دستبردار ہونے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نیتن یاہو بن گویر کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔