پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز یونین انتخابات، غازی گروپ کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پنجاب یونیورسٹی ایمپلائز یونین کے انتخابات 2025-27میں غازی گروپ نے ایک بار پھر شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے پورا پینل بھاری اکثریت سے کامیاب کر لیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے 5 ہزار سے زائد ملازمین نے اپنی قیادت کا اعتماد غازی گروپ پر ظاہر کرتے ہوئے آئندہ دو سالوں کے لیے قیادت کی ذمہ داری انہی کے سپرد کر دی۔
غازی گروپ 1981 سے پنجاب یونیورسٹی کے ملازمین کی خدمت کے مشن پر گامزن ہے۔
الیکشن کے نتائج درج ذیل ہیں:
صدر چوہدری بشارت محمود نے 1593 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے مدمقابل ناصر رحمت نے 890 ووٹ لیے۔
سیکرٹری جنرل طیب اعجاز خان نے 1500 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے حریف طارق محمود نیازی کو 824 ووٹ ملے۔
سینئر نائب صدر تنویر اعوان 1507 ووٹ، نائب صدر حماد بٹ 1518 ووٹ، جوائنٹ سیکرٹری اظہر اقبال بلوچ 1493 ووٹ، فنانس سیکرٹری محمد ظہیر اعوان 1574 ووٹ، سیکرٹری انفارمیشن عثمان رضا 1452 ووٹ، اسپورٹس سیکرٹری (نیو کیمپس) فواد علی 1513 ووٹ،اسپورٹس سیکرٹری (اولڈ کیمپس) خرم شہزاد 1551 ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔
اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات سے 15 ایگزیکٹو ممبران بھی کامیاب قرار پائے۔
غازی گروپ کی یہ تاریخی کامیابی پنجاب یونیورسٹی کی انتخابی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ نو منتخب صدر چوہدری بشارت محمود اور سیکرٹری جنرل طیب اعجاز خان نے کہا کہ جامعہ پنجاب کے ملازمین نے ہم پر جو اعتماد کیا ہے، ان شاء اللہ ہم اس پر پورا اتریں گے۔ ملازمین کے جملہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 44 فیصد ہاؤس ریکوزیشن، 15 فیصد ڈسپرٹی ریڈکشن الاؤنس، ملازمین کی سینیارٹی، کم فٹنس پروموشن، ڈی کلاس ملازمین کی ترقی، ٹیکنیکل سٹرکچر کا نفاذ اور رہائشی کالونی میں بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے بھرپور کوشش کی جائے گی۔ غازی گروپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملازمین کی عزتِ نفس کا مکمل تحفظ کرے گا اور خدمت کے سفر کو پہلے سے زیادہ جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پنجاب یونیورسٹی ملازمین کی غازی گروپ
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔