اقوام متحدہ کا غزہ کے لیے اضافی 11 ملین ڈالر امداد کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اقوام متحدہ کے ریلیف چیف ٹام فلیچر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریسپانس فنڈ سے مزید 11 ملین ڈالر جاری کیے گئے ہیں تاکہ سردیوں سے قبل امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جا سکے۔
ٹام فلیچر نے ایک بیان میں کہا کہ اس رقم کے اجراء کے بعد غزہ کے لیے کل امداد 20 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جس سے خوراک، پانی، پناہ گاہیں، صحت کی سہولتیں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے میں مدد دی جائے گی۔
The ceasefire in Gaza offers a critical window to scale up aid, ahead of winter.
I’ve allocated an additional $11 million from @UNCERF, bringing the total to $20 million, to deliver food, water, shelter and health services, and keep essential infrastructure running. pic.twitter.com/0GajVkE9Ha
— Tom Fletcher (@UNReliefChief) October 13, 2025
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں فائر بندی کے بعد یہ ایک اہم موقع ہے کہ امدادی کارروائیوں کو تیزی سے بڑھایا جائے تاکہ موسمِ سرما سے قبل عوام تک زیادہ سے زیادہ ریلیف پہنچایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔