پنجاب حکومت کا ہوٹلوں اور باربی کیو ریسٹورنٹس کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
لاہور:
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ہوٹلوں اور باربی کیو ریسٹورنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا حکم جاری کر دیا۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ نے تمام ضلعی افسران کو سخت احکامات دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئلہ، لکڑی یا چارکول استعمال کرنے والے ریسٹورنٹس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
ڈی جی ماحولیات کے مطابق تمام ہوٹلوں اور باربی کیو اسٹیشنز کو پندرہ دن کے اندر سَکشن ہُوڈز نصب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو ریسٹورنٹس کھلی جگہوں پر دھواں، چکنائی یا بدبو پھیلاتے ہیں، ان کے خلاف ماحولیاتی قوانین کے تحت جرمانے اور مقدمات درج کیے جائیں گے۔
عمران حامد شیخ کا کہنا تھا کہ فضائی آلودگی اور سموگ کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جو ہوٹل مالکان احکامات پر عمل نہیں کریں گے، ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی ٹیمیں فیلڈ میں سرگرم ہیں، چیکنگ اور سیلنگ کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔مزید برآں، تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی کہ وہ احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنائیں۔
ڈی جی ماحولیات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ای پی اے کے درمیان ایک مشترکہ ایکشن پلان بھی تشکیل دیا گیا ہے جس کے تحت کھلے پکوان والے ہوٹلوں کی سخت نگرانی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پندرہ دن کے اندر سَکشن سسٹم نہ لگانے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
آخر میں ڈی جی عمران حامد شیخ نے کہا کہ "حکومتِ پنجاب کا واضح پیغام ہے — دھواں چھوڑنے والے ریسٹورنٹس کے لیے کوئی گنجائش نہیں"۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریسٹورنٹس کے انہوں نے کے خلاف
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔