پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو نے اعلان کیا ہے کہ ملک کا پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS-1 19 اکتوبر کو چین کے جیوکوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے خلا میں بھیجا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی مکمل بحال کردی گئی، پی ٹی سی ایل

ہائپر اسپیکٹرل امیجنگ ایک جدید کیمرہ ٹیکنالوجی ہے جو سیٹلائٹس میں استعمال ہوتی ہے تاکہ زمین اور خلا کا تفصیلی مطالعہ کیا جا سکے۔ روایتی سیٹلائٹ کیمروں کے برعکس جو چند رنگوں (سرخ، سبز، نیلا) کو کیپچر کرتے ہیں اور ہائپر اسپیکٹرل کیمرے سینکڑوں بہت باریک رنگوں کو کیپچر کرتے ہیں جس سے وہ روشنی کے بہت ہی معمولی فرق بھی پہچان سکتے ہیں جو انسانی آنکھ یا عام سیٹلائٹس نہیں دیکھ سکتے۔

ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ کے فوائد اور اہمیت

بدھ کو جاری کردہ سپارکو کے بیان کے مطابق یہ مشن پاکستان کے قومی خلائی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ہے جو ملک کو زراعت، آفات کے انتظام، شہری ترقی اور ماحولیاتی نگرانی میں جدید خلائی ٹیکنالوجی کے دور میں داخل کرے گا۔

زراعت کے شعبے میں HS-1 ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا کے ذریعے درست فارمنگ کو ممکن بنائے گا۔

مزید پڑھیے: اسپیس ایکس کا مشن کامیاب، ناسا اور ناوا کے اسپیس ویذر سیٹلائٹس خلا میں روانہ

یہ سیٹلائٹ فصل کی صحت، مٹی کی نمی اور آبپاشی کے نمونوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرے گا، جس سے پیداوار کا تخمینہ 15 سے 20 فیصد تک بہتر ہوگا اور غذائی تحفظ میں نمایاں مدد ملے گی۔

شہری ترقی اور ماحولیاتی نگرانی میں کردار

سیٹلائٹ کے جدید سینسر ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی، بنیادی ڈھانچے کا نقشہ بنانے اور شہری ترقی کے نمونوں کا تجزیہ کرنے میں مدد کریں گے۔

 HS-1 منفرد اسپیکٹرم کے ذریعے انسانی ساختوں کی شناخت کرے گا، جو پائیدار شہر کی منصوبہ بندی، زمین کے استعمال کی تشخیص، اور وسائل کے مؤثر انتظام میں معاون ہوگا۔

آفات کے انتظام اور ماحولیاتی نگرانی

یہ سیٹلائٹ موسمیاتی تبدیلیوں کی ابتدائی وارننگ اور فوری ردعمل کے لیے اہم آلہ ثابت ہوگا۔

سیٹلائٹ کی اعلیٰ تصویری صلاحیتوں سے خاص طور پر قراقرم ہائی وے اور شمالی پاکستان میں سیلاب کی پیش گوئی، لینڈ سلائیڈز کی نگرانی اور جیو ہیزرڈز کا اندازہ ممکن ہوگا۔

مزید پڑھیں: 1990 کی دہائی میں کی گئی ماحولیاتی پیش گوئیاں درست ثابت، سیٹلائٹ تصاویر سے بڑا انکشاف

مزید برآں HS-1  آفات کے بعد کی تشخیص، نقل و حمل کے نیٹ ورک کا تجزیہ اور آبی وسائل کی ماڈلنگ میں مدد دے گا اور سیلاب، زلزلے، جنگلات کی کٹائی اور زمین کے خراب ہونے کی بروقت معلومات فراہم کرے گا۔

پاکستان کے خلائی پروگرام کی توسیع

HS-1، پاکستان کے موجودہ ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس PRSS-1 (جولائی 2018)، EO-1 (جنوری 2025)، اور KS-1 (جولائی 2025) کے ساتھ شامل ہو کر ملک کے خلائی انفراسٹرکچر کو مزید مضبوط کرے گا۔

سپارکو کے مطابق یہ مشن قومی خلائی پالیسی اور سپارکو کے وژن 2047 کے مطابق ہے جو پاکستان کو خلائی ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں عالمی صف اول پر لانے کا عزم رکھتا ہے۔

بین الاقوامی تعاون اور مستقبل کے منصوبے

گزشتہ ماہ سپارکو کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا تھا کہ ایجنسی خلائی اطلاقات کو آفات کے انتظام کے نظام میں شامل کر رہی ہے تاکہ سائنس اور بین الاقوامی تعاون کی مدد سے قدرتی آفات کے لیے بہتر تیاری کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا خلائی میدان میں بڑا قدم، جدید ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ چین سے لانچ

جولائی میں وزارت خارجہ نے چین سے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کی کامیاب لانچ کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد پاکستان کی زراعت کی نگرانی اور آفات کے انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہائپر اسپیکٹرل آفات کے انتظام سپارکو کے کرے گا

پڑھیں:

ناسا کا شہابِ ثاقب کے چاند سے ممکنہ خطرناک  ٹکراؤ پر الرٹ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ناسا نے حال ہی میں ایک ایسے شہابِ ثاقب کے بارے میں تشویشناک معلومات جاری کی ہیں جو مستقبل میں چاند کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

’’2024 YR4‘‘ نامی یہ خلائی چٹان سائز میں اگرچہ ایک بڑے فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہے، مگر ناسا کے مطابق اس کے اثرات معمولی نہیں ہوں گے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ تازہ ڈیٹا کے مطابق اس شہابِ ثاقب کے چاند سے ٹکرانے کے امکانات 4 فیصد تک پہنچ گئے، جو کہ اس نوعیت کے خلائی خطرات کے تناظر میں خاصے سنجیدہ سمجھے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ حتمی تصویر اُس وقت سامنے آئے گی جب آئندہ سال فروری میں اس آسمانی پتھر کی درست پوزیشن دوبارہ ناپی جائے گی۔ اس مشاہدے کے دوران اس کے مدار، رفتار اور سمت کے بارے میں زیادہ واضح معلومات ملیں گی، جن کی بنیاد پر ٹکراؤ کے حقیقی خدشات کا اندازہ لگایا جائے گا۔

اس سے پہلے اندازے یہ بتاتے تھے کہ یہ پتھر زمین کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتا ہے، تاہم بعد کی تصاویر نے زمین کے لیے خطرے کو تقریباً ختم کردیا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اس کی موجودہ سمت چاند کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ خلائی چٹان اپنی موجودہ ممکنہ پوزیشن برقرار رکھتی ہے تو 2032 میں اس کا چاند سے ٹکرا جانا خارج از امکان نہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تصادم معمولی نوعیت کا نہیں ہوگا۔

چونکہ یہ شہابِ ثاقب 50 سے 100 میٹر قطر رکھتا ہے، اس لیے ٹکراؤ کی صورت میں چاند کی سطح پر ایک گہرا گڑھا بن سکتا ہے، جبکہ اس دھماکے سے پیدا ہونے والے لاکھوں چھوٹے پتھر خلا میں پھیل جائیں گے۔

ایسے ذرات نہ صرف خلا میں موجود ہزاروں سیٹلائٹس کے لیے خطرہ بنیں گے بلکہ دنیا بھر کے کمیونی کیشن، انٹرنیٹ نیٹ ورکس، نیویگیشن سسٹمز، جی پی ایس اور موسمیات سے تعلق رکھنے والے آلات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔

ناسا نے واضح کیا ہے کہ فروری 2026 میں جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس شہابِ ثاقب کا انتہائی باریک بینی سے مطالعہ کرے گی۔ اسی مشاہدے کے دوران یہ بھی ممکن ہے کہ ٹکراؤ کے امکانات اچانک 30 فیصد تک بڑھ جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو سائنس دانوں کے پاس کارروائی کے لیے صرف 6 سے 7 سال باقی رہ جائیں گے۔

ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر خطرہ بڑ ھا تو ناسا 2028 یا 2029 میں ایک خصوصی خلائی مشن بھیج سکتا ہے۔ یہ مشن DART کی طرح اس پتھر کو معمولی جھٹکا دے کر اس کے راستے میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے گا تاکہ ممکنہ تباہی سے بچا جاسکے۔

یہ شہابِ ثاقب فروری میں سورج کے بہت قریب پہنچے گا، جس کے بعد یہ کئی برس تک زمین سے نظر نہیں آئے گا۔ اسی لیے ماہرین کے مطابق آئندہ چند مہینے اور سال اس حوالے  سے انتہائی فیصلہ کن ہوں گے، کیونکہ چاند کو لاحق یہ نیا خطرہ خلائی تحقیق کے شعبے میں خاص تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پہلا بین الاقوامی مقابلہ حسن قرات، ملائیشیا کے قاری نے پہلا انعام جیت لیا
  • پاکستان میں پہلا بین الاقوامی مقابلہ حسن قرآت، 50 لاکھ کا پہلا انعام کس ملک کے قاری نے جیتا؟
  • وہ خطے جہاں خلائی اجسام گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے
  • ناسا کا شہابِ ثاقب کے چاند سے ممکنہ خطرناک  ٹکراؤ پر الرٹ
  • پاکستان کی سرمایہ کاری مارکیٹس کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے سی ایم ڈی سی کا پہلا اجلاس
  • کاروباری سرگرمیوں میں تیزی، صنعتی بجلی کی طلب میں 25 فیصد اضافہ
  • چیئرمین جناح ٹاؤن کا تجاوزات کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان
  • چاند اور مریخ مشنوں کیلئے خلائی زرعی فارمز کا روڈ میپ جاری
  • پاکستان ہاکی فیڈریشن کے خود ساختہ الیکشن کا دعویٰ مسترد، پی ایس بی خود انتخابات کرائے گا
  • بانی پی ٹی آئی پروجیکٹ کے لانچ کے بعد ملک میں تباہی آئی: رانا ثناء اللّٰہ