سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر فیاض الحسن چوہان نے معافی کیوں مانگی؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سہیل آفریدی نے بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ان کے حلف برداری سے قبل سیاسی و سماجی حلقوں میں اس بات پر شدید بحث جاری تھی کہ آیا وہ اس منصب تک پہنچ پائیں گے یا نہیں۔ متعدد سیاسی شخصیات نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب نہیں ہو سکیں گے، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما و سابق مشیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ منتخب، سوشل میڈیا پر جتنے منہ اتنی باتیں
فیاض الحسن چوہان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے تو وہ پوری قوم سے معافی مانگیں گے۔ سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے فیاض الحسن چوہان سے وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔
سہیل آفریدی تو وزیر اعلیٰ بن گئے
کیا فیاض الحسن چوہان صاحب قوم سے معافی مانگیں گے؟ pic.
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) October 13, 2025
اس کے بعد سوشل میڈیا پر فیاض الحسن چوہان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں انہوں نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میری پیش گوئی تھی کہ سہیل آفریدی جیسا اسمگلر، ٹی ٹی پی اور انڈین را کے ساتھ تعلق رکھنے والا شخص خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ نہیں بن سکے گا، مگر میں غلط ثابت ہوا، اس لیے وعدے کے مطابق میں قوم سے معافی مانگتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نہیں بن سکیں گے، ندیم افضل چن کا دعویٰ
انہوں نے مزید کہا کہ میں نے تو اپنی بات پر معافی مانگ لی ہے، اب میں پی ٹی آئی کے ان سپورٹرز سے سوال کرتا ہوں کہ کیا وہ قیدی نمبر 420 ایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھروں، 375 ڈیمز، اور پاکستان و پاک فوج کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈے پر بھی قوم سے معافی مانگے گا؟
فیاض الحسن چوہان کے اس بیان پر مختلف سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے، اور اس بحث نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ نادر بلوچ نے لکھا کہ کیا یہ فیاض الحسن چوہان کی معافی ہے؟ یہ شخص ہر گزرتے دن کے ساتھ بےنقاب ہوتا ہے۔
کیا یہ فیاض الحسن چوہان کی معافی ہے؟؟؟یہ شخص ہر گزرتے دن کے ساتھ بےنقاب ہوتا ہے۔۔ https://t.co/5oiQpNDd0A
— Nadir Baloch (@BalochNadir5) October 15, 2025
خرم اقبال نے لکھا کہ ایک معافی تو آ گئی، باقی کب تک آئیں گی۔
ایک معافی تو آ گئی، باقی کب تک آئیں گی۔۔!! https://t.co/fGOckhIKof
— Khurram Iqbal (@khurram143) October 15, 2025
کئی صارفین یہ کہتے نظرا ٓئے کہ فیاض الحسن چوہان اس وقت عمران خان سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں یہ سب باتیں انہیں اس وقت کیوں یاد نہیں آئیں جب وہ خود حکومت میں تھے اور وزارت کے مزے لے رہے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی عمران خان فیاض الحسن چوہان ندیم افضل چنذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی خیبر پختونخوا سہیل ا فریدی فیاض الحسن چوہان ندیم افضل چن
پڑھیں:
عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی پارلیمانی کارروائی روکنے کی دھمکی
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بانی تحریکِ انصاف عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی نہ چلنے دینے کی دھمکی دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان کے ہمراہ دھرنا دیے بیٹھے رہے تاکہ انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت مل سکے، تاہم رات بھر انتظار اور کوششوں کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
ہفتہ کی صبح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالت پہنچے، جہاں انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے ملاقات کی درخواست کی، لیکن چیف جسٹس نے ان سے ملنے سے انکار کردیا، صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ۔
وزیراعلیٰ آفریدی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ تمام آئینی و قانونی دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں، لیکن اب بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کون سا راستہ باقی رہ گیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے لیڈر سے ملاقات کر سکیں۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح اعلان کیا کہ اگر انہیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وہ پارلیمنٹ کی کارروائی آگے نہیں بڑھنے دیں گے، منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور وہ اس سلسلے میں کارکنان کے ساتھ دوبارہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔
سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر عدالتیں انصاف فراہم نہ کرسکیں تو لوگ خود انصاف لینے پر مجبور ہوجائیں گے، عوام قانون ہاتھ میں لیں گے تو حالات خراب ہوں گے اور پھر کوئی بھی انہیں کنٹرول نہیں کر پائے گا۔
وزیراعلیٰ کے اس سخت اور غیر معمولی مؤقف کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اڈیالہ جیل کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی ہے، جبکہ نفری میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔