data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

امریکا کی ریاست نیویارک میں ایک دلچسپ و عجیب اور متاثر کن واقعہ پیش آیا جہاں جدید ٹیکنالوجی نے ایک بے زبان جانور کی زندگی بچا لی۔

ایک بلی کا بچہ حادثاتی طور پر ایک زیرِ زمین پائپ میں جا پھنسا، جہاں تک انسانوں کا پہنچنا تقریباً ناممکن تھا۔ بلی کی مسلسل میاؤں میاؤں نے اردگرد کے لوگوں کی توجہ کھینچ لی اور مقامی ریسکیو ٹیم کو اطلاع دی گئی۔

ریسکیو عملے نے فوری طور پر ایک ریموٹ کنٹرول کار کو ریسکیو مشن کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کھلونے کی اس کار میں ایک چھوٹا کیمرہ اور تیز روشنی نصب کی تاکہ پائپ کے اندر بلی کا پتا لگایا جا سکے۔

ویڈیو دیکھیں: https://www.

facebook.com/share/v/1BZ6XNQKd4/

کار کو احتیاط سے پائپ میں بھیجا گیا اور چند منٹوں کی تلاش کے بعد بلی کی درست موقع کی نشاندہی ہو گئی۔

بلی کی جگہ معلوم ہونے کے بعد ٹیم نے انتہائی احتیاط سے پائپ کا مخصوص حصہ کھود کر کھولا اور کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد آخرکار ننھی بلی کو زندہ سلامت باہر نکال لیا۔

اس موقع پر موجود افراد نے خوشی کا اظہار کیا اور بلی کو دیکھ کر تالیاں بجا کر ریسکیو اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گیا ہے، جہاں صارفین نے اس کارروائی کو انسانیت، ہمدردی اور ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی بہترین مثال قرار دیا ہے۔ ریسکیو ٹیم نے واقعے کے بعد بتایا کہ اس کامیاب آپریشن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر نیت اور ہمدردی ہو تو ٹیکنالوجی کے ذریعے بظاہر ناممکن کام بھی ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے بعد

پڑھیں:

اب ہیوی گاڑیوں کا کنٹرول ٹریفک پولیس کے ہاتھ میں ہوگا، حادثات میں کتنی کمی آئے گی؟

کراچی میں ہیوی ٹرکوں اور دیگر بڑی گاڑیوں پر ٹریکنگ ڈیوائسز (GPS Trackers) لگانے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سڑکوں پر شہریوں کے تحفظ کو بہتر بنانا اور ٹریفک حادثات کو کم کرنا ہے۔ یہ ٹریکنگ ڈرائیو سندھ حکومت کی ہدایت پر شروع کی گئی ہے تاکہ خاص طور پر ہیوی اور غیر مجاز گاڑیوں کی وجہ سے ہونے والے بڑھتے ہوئے حادثات سے نمٹا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 100 سے زائد شہریوں کی ہلاکت کے باوجود ڈمپرز اور ٹرالرز سے متعلق کوئی فیصلہ کیوں نہ ہوسکا؟

اس مہم کے تحت واٹر ٹینکرز، ڈمپر، آئل ٹینکرز، مسافر بسیں، بڑے ٹرکس اور ٹریلرز میں ڈیوائسز لگائی گئی ہیں، اس کا اولین مقصد سڑک پر گاڑیوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کرنا ہے تاکہ ڈرائیونگ میں احتیاط کو یقینی بنایا جا سکے اور حادثات میں کمی آئے۔ اس سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو ٹریک کرنا اور ان پر کارروائی کرنا آسان ہوگا، اس اقدام کو ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک قوانین کی سخت نفاذ کی مہم کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے۔

ڈی آئی جی پیر محمد شاہ کے مطابق کراچی میں 13 ہزار ہیوی وہیکلز میں ٹریکر نصب کر دیے گئے ہیں جبکہ باقی 13 ہزار ٹینکرز، ڈمپرز اور دیگر ہیوی وہیکلز میں ٹریکر لگائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیوی وہیکلز کے ٹریکرز کا کنٹرول ٹریفک پولیس کے پاس ہے، ہیوی وہیکلز کو تیز رفتاری پر جرمانے جاری ہو رہے ہیں، حد رفتار 30 کلومیٹر سے بڑھے تو خودکار سسٹم سے چالان ہو جاتا ہے۔

ٹریکنگ ڈیوائسز کیا کریں گی؟

ٹریکنگ ڈیوائسز گاڑیوں کی ہر وقت صحیح جگہ کا پتہ لگانے میں مدد کریں گی، مخصوص جغرافیائی حدود مقرر ہو سکیں گے جس سے باہر نکلنے پر الرٹ موصول ہوگا۔ چوری کی صورت میں بھی الرٹ جاری ہوگا اور بعض اوقات انجن کو دور سے بند کرنے کے کام بھی آئیں گے۔ ایندھن کے استعمال، تیز رفتاری، اچانک بریک لگانے جیسے ڈرائیور کے رویے کو مانیٹر کیا جا سکے گا۔ یہ اقدام کراچی کی سڑکوں پر ایک بہتر ٹریفک نظام اور تحفظ کو یقینی بنانے کی طرف ایک قدم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی شاہراہیں موت کی راہیں: 5 سال میں 77 ہزار حادثات، 1700 سے زائد اموات

ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی لیاقت محسود نے کہا کہ ڈمپروں میں ٹریکرز نصب کرکے انہیں ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کے دفتر میں کنٹرول آئی ٹی برانچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام شہر میں بھاری گاڑیوں کی مؤثر مانیٹرنگ، ٹریفک نظم و ضبط میں بہتری اور جدید ٹریکنگ سسٹم کے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ڈمپرز کو کراچی کی حدود میں رات کے اوقات میں چلانے کی اجازت ہوگی

ڈمپر ایسوسی ایشن کے مطابق فہرست میں شامل ڈمپرز کو کراچی کی حدود میں رات کے اوقات میں چلانے کی اجازت ہوگی، جبکہ دن کے وقت یہ ڈمپر کورنگی انڈسٹریل ایریا، نیو کراچی انڈسٹریل ایریا، سائٹ ایریا، قاسم پورٹ اور کیماڑی پورٹ میں باقاعدہ چل سکیں گے۔

ڈمپرز کے لیے زیادہ سے زیادہ رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر

انہوں نے کہا کہ کراچی شہر کی حدود میں چلنے والے ڈمپرز کے لیے زیادہ سے زیادہ رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ نادرن بائی پاس، سپر ہائی وے اور دیگر نیشنل ہائی ویز پر ڈمپر مالکان اپنے معمول کے مطابق رفتار سے اپنے ڈمپر چلا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ڈمپر کی ٹکر سے بہن بھائی جاں بحق، 7 ڈمپر نذر آتش

ڈمپر ایسوسی ایشن نے امید ظاہر کی ہے کہ ٹریکر سسٹم کے نفاذ سے شہر میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، حادثات میں کمی آئے گی اور بھاری گاڑیوں کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی۔

صرف 7 مہینوں میں 538اموات، 205 ہیوی وہیکلز سے ہوئیں

رپورٹس کے مطابق 2025 کے ابتدائی سات ماہ میں ہونے والی 538 اموات میں سے 205 اموات براہ راست ہیوی وہیکلز کی زد میں آنے سے ہوئیں۔ 2025 کے پہلے 4 ماہ میں مختلف ٹریفک حادثات میں 301 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 96 افراد ہیوی ٹریفک کے حادثات میں جان بحق ہوئے۔ ان اعداد و شمار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہیوی ٹریفک کراچی میں ایک سنگین عوامی صحت اور تحفظ کا ہنگامی مسئلہ بن چکا ہے، اور اس سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر ٹریکنگ ڈیوائسز لگانے جیسے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان ٹرک ٹریکنگ ڈیوائسز حادثات سندھ کراچی ہیوی ٹریفک

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف آپریشن کا آغاز
  • 75 سالہ دادی کا شاندار ڈانس اور زبردست فلپ، سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی
  • وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں
  • اب ہیوی گاڑیوں کا کنٹرول ٹریفک پولیس کے ہاتھ میں ہوگا، حادثات میں کتنی کمی آئے گی؟
  • بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان؛ امن کے لیے خطرہ
  • پشاور: گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑانے کا مقدمہ درج
  • پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث شہرقائد میں بڑی تعداد میں گاڑیاں ٹریفک جام میں پھنسی گئیں
  • کے ایم سی سٹی کونسل میں بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف قرارداد جمع
  • پاکستان ریلوے میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا دی گئی
  • پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی یونیورسٹی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقدہ جاب فیئر سے خطاب کرر ہے ہیں