افغان طالبان بھارتی مفادات کیلیے کام کررہے ہیں، سیزفائر کی خلاف ورزی پر بھرپور جواب ملے گا، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں افغان طالبان در حقیقت بھارت کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں، سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی تو بھرپور جواب ملے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ اگر افغانستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی جاری رہی تو پاکستان کو جواب دینا پڑے گا اور وہ اس اختیار کو استعمال کرے گا۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ 48 گھنٹے کا سیز فائر ہے لیکن اگر اس کی خلاف ورزی سامنے آئی تو پھر ردعمل دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے فیصلے اور کارروائیاں بھارت سے اسپانسر ہو رہے ہیں۔ کابل حکومت اس وقت دہلی کی پراکسی وار لڑ رہی ہے۔
خواجہ آصف نے واضح الفاظ میں کہا کہ طالبان کی نیت امن لانے کی نہیں بلکہ تنازع کو بڑھانے کی ہے۔ افغانستان جو ٹینک دکھا رہا ہے وہ ہمارے پاس موجود ہی نہیں اور یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ ایسا جھوٹا دعویٰ کیوں کر رہے ہیں ۔ معلوم نہیں انہوں نے یہ ٹینک کس کباڑی سے حاصل کیا۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ بعض دوست ممالک کی جانب سے گفت و شنید کی بات کے ردعمل میں ہم نے وہاں جاکر مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا اور ویزا کی درخواستیں بھی کی گئی تھیں، مگر جنگ کے آغاز کے بعد وہ عمل معطل ہو گیا اور ویزا کی درخواستیں واپس لے لیں گئیں۔
خواجہ آصف نے امریکی صدر کے حوالے سے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں کی ہیں اور اگر وہ یہاں بھی جنگ بندی کے خواہاں ہیں تو موسٹ ویلکم۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزی خواجہ آصف نے کہا کہ
پڑھیں:
افغانستان بطور عالمی دہشتگردی کا مرکز، طالبان کے بارے میں سخت فیصلے متوقع
تاجکستان اور امریکا میں ہونے والے دہشتگرد حملوں نے افغانستان کے بارے میں دنیا کی تشویش میں خاطرخواہ اِضافہ کر دیا ہے اور اب عالمی اور علاقائی طاقتوں کے نزدیک افغانستان ایک بڑھتی ہوئی سیکیورٹی تشویش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرارداد 2593 میں واضح طور پر طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے پناہ گاہ نہ بننے دیں۔ بین الاقوامی انسدادِ دہشتگردی ادارے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں مختلف عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور ان کی سرحد پار سرگرمیوں کی صلاحیت خطے اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحد کی بندش سے افغانستان کو کتنا تجارتی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے؟
بعض رپورٹس کے مطابق شام سے جنگجوؤں کے افغانستان منتقل ہونے اور وہاں سے نئے علاقائی خطرات پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں عالمی برادری طالبان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شدت پسند گروہوں کے کیمپ ختم کریں، فنڈنگ روکیں اور بیرونِ ملک کارروائیوں کے سہولت کاروں کا خاتمہ کریں۔
علاقائی طاقتیںخصوصاً پاکستان، چین، روس اور ایران، اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ ان ممالک نے حال ہی میں مشترکہ طور پر اس امر پر زور دیا ہے کہ افغانستان کو دہشتگردی کے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق ای ٹی آئی ایم، بی ایل اے، داعش، ٹی ٹی پی اور دیگر دہشتگرد گروہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہیں بلکہ خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بھی بنتے ہیں۔
ان ممالک کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ طالبان حکومت دہشتگرد گروہوں کے خلاف موثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، ان کے کیمپ بند کرے، مالی معاونت روکے، اسلحے کی ترسیل ختم کرے اور سرحد پار حملوں کی روک تھام کو یقینی بنائے۔
مغربی طاقتیںخصوصاً امریکا اور یورپی یونین اس سلسلے میں ایک محتاط اور دو بدو پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اگرچہ طالبان انسانی حقوق، خواتین کی آزادی اور سیاسی شمولیت پر مغربی معیارات سے مطابقت نہیں رکھتے، لیکن سیکیورٹی خطرات کے باعث مغربی ممالک طالبان کے ساتھ محدود رابطہ برقرار رکھنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک افغان تناؤ، جے شنکر کے بیان سے امید باندھیں؟
بعض یورپی ریاستوں نے عملی ضرورت کے تحت طالبان کے ساتھ تکنیکی سطح پر تعلقات قائم کیے ہیں تاکہ مہاجرین، انسدادِ دہشتگردی اور باہمی سیکیورٹی امور پر گفتگو جاری رہ سکے، مگر باضابطہ تسلیم کرنے یا مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔
اگر ہم بھارت کو سبق سکھا سکتے ہیں تو یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا، اسحاق ڈارنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے 19 اپریل کو افغانستان کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کئے ہیں لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کا معاملہ چلتا رہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ہمارا افغانستان سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔ اسحاق ڈار نے سوال اُٹھایا کہ ہر قسم کے دہشتگرد گروہ افغانستان میں ہی کیوں ہیں اور افغان ان گروہوں کو نکال باہر کریں۔
اُنہوں نے کہا کہ گذشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے درخواست آئی ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی امداد و خوراک کو بحال کریں، میں نے مسلح افواج کے سربراہ سے بات کی ہےجلد وزیراعظم سے بھی بات کروں گا، جلد ہم عام افغان عوام کی تکالیف کو دیکھتے ہوہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد و خوراک کے جانے کی اجازت دیں گے۔
پاک افغان ناکام مذاکرات پر افغان ہرزہ سرائی کے بعد اچانک افغان حکومت کے روّیے میں تبدیلی
اکتوبر کے اواخر اور نومبر کے شروع میں پاک افغان مذاکرات ناکام ہوئے تو افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیرخان متقی نے کہا کہ دہشتگردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور پاکستان اِس کی ذمے داری افغانستان پر ڈالنا چاہتا ہے، یہ بات اُنہوں نے بھارت میں بھی کہی جس کو بھارت میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ لیکن پاکستان 4 سال قبل افغان طالبان رجیم کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک سرحد پار دہشتگردی کا شکار ہے جس کو بعض ممالک کی جانب سے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا گیا۔
گزشتہ 3 دن کے واقعات جس میں افغان سرزمین سے تاجکستان پر حملہ اور 3 چینی شہریوں کی ہلاکت، اِسی طرح سے افغان شہری کی فائرنگ سے واشنگٹن ڈی سی میں 2 امریکی فوجیوں کے قتل کے بعد سے عالمی سطح پر افغانستان کو دہشتگردی کے مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان سے تاجکستان پر ڈرون حملہ اور فائرنگ، 3 چینی باشندے ہلاک
جہاں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے انخلا کے وقت امریکی طیاروں میں ہزاروں افغانوں کی امریکا آمد کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہیں امریکی ویزا ڈیپارٹمنٹ نے افغان پاسپورٹس پر تمام مسافروں کی آمد پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ امریکہ میں موجود تمام افغان باشندوں کے گرین گارڈ اور سیاسی پناہ کے عمل کو روک دیا ہے۔
بی بی سی کی خبر کے مطابق امریکا میں موجود افغان باشندوں نے افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کے حملے اور دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اُن کے خلاف ایکشن نہ لیا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مغربی ممالک میں مقیم اکثر افغانی پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کی کبھی مذمت نہیں کرتے بلکہ اُس پر سوشل میڈیا پر فخریہ انداز میں باتیں کرتے ہیں۔
دوسری طرف تاجکستان حکومت افغانستان کو دہشتگردی اور عدم استحکام کا ممکنہ مرکز سمجھتی ہے، اور اس خوف کی بنیاد صرف ماضی کے واقعات نہیں بلکہ مستقبل کی پیش گوئی پر بھی ہے۔ تاجکستان کی تشویش کی وجوہات، سرحدی قربت، دہشتگرد نیٹ ورکس، مہاجرین/پناہ گزین دباؤ، اور علاقائی سیکیورٹی، سب مل کر یہ مؤقف مضبوط کرتی ہیں کہ افغانستان کی حالت براہِ راست تاجکستان کے مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے
افغان شہریوں کی بیدخلی پاکستان پر تنقید کرنے والے ممالک بھی افغان شہریوں کو ڈی پورٹ کر رہے ہیں
2023 میں جب پاکستان نے افغان شہریوں کی بیدخلی کے عمل کو شروع کیا تو اُس پر عالمی اداروں جیسا کہ یو این ایچ سی آر اور مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی لیکن اب امریکہ بھی افغان شہریوں کی بیدخلی کی بات کر رہا ہے اور اِس سے قبل اگر دیکھا جائے تو یورپ میں جرمنی نے 2021 کے بعد دوبارہ منظم ڈی پورٹیشن شروع کی اور 2025 میں درجنوں افغان مردوں کو واپس بھیجا، جبکہ سویڈن، نیدرلینڈز، آسٹریا، بیلجیم، فرانس، ڈنمارک، ناروے، سپین، اٹلی اور سویٹزرلینڈ نے بھی مسترد شدہ پناہ کی درخواستوں یا مجرمانہ ریکارڈ کی بنیاد پر افغان باشندوں کو ڈی پورٹ کیا۔ جبکہ آسٹریلیا اور کینیڈا سے بھی افغان باشندوں کی واپسی کی مثالیں ملیں۔ خلیجی ریاستوں میں یہ زیادہ تر غیرقانونی رہائش یا سکیورٹی بنیادوں سے منسلک تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار امریکا پاک افغان تاجکستان دہشتگردی طالبان