بھارت میں ہاتھیوں کی آبادی میں ایک چوتھائی کمی، نئے سروے میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2025ء) بھارت میں جنگلی ہاتھیوں کی آبادی کے تخمینے میں تقریبا ایک چوتھائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے ایک نئے سروے ، جس میں ڈی این اے پر مبنی نظام شامل کیا گیا، کے مطابق یہ اب تک کا سب سے درست لیکن تشویش ناک تخمینہ ہے۔انڈیا دنیا کے باقی ماندہ جنگلی ایشیائی ہاتھیوں کی اکثریت کا مسکن ہے آئی یو سی این کے مطابق خطرے سے دوچار نسل ہے، اور جس کے لیے سکڑتے ہوئے جنگلات اور مسکن ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔
وائلڈ لائف انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کی جانب سے اس ہفتے جاری ہونے والی آل انڈیا ایلیفینٹ ایسٹیمیشن رپورٹ کے مطابق ملک میں جنگلی ہاتھیوں کی تعداد 22,446 ہے، جو 2017 میں تخمینہ لگائی گئی 29,964 کی نسبت 25 فیصد کم ہے۔(جاری ہے)
یہ سروے 21 ہزار سے زائد ہاتھیوں کے فضلے کے جینیاتی تجزیے، وسیع کیمرا ٹریپ نیٹ ورک اور 6.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہاتھیوں کی
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :