جن افغانوں کو ہم نے پناہ دی آج وہی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کیخلاف پروپیگینڈا کررہے ہیں، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 844 افراد (سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار) شہید ہوئے، کہ جن لوگوں کو کبھی پاکستان نے پناہ دی، وہی آج بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان نے پاکستان سے تنازع بطور پراکسی بھارت کے اشارے پر شروع کیا، خواجہ آصف
مائیکرو بلاگنگ سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیردفاع نے کہا کہ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن کابل سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔
طالبان کے 2021سے اقتدار میں آنے کےبعد سے لیکر پاکستان میں امن اور افغانستان سے دراندازی کے لئے ھماری حکومت کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ۔۔۔
1-وزیر خاجہ کے کابل وزٹ 4
2-وزیردفاع اور ISI وزٹ2
3-نمائندہ خصوصی 5وزٹ
4-سیکرٹری 5وزٹ
5- نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر 1وزٹ
6-جوائنٹ کوآرڈینیشن…
— Khawaja M.
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سفارتی، عسکری اور سیکیورٹی سطح پر مسلسل رابطے برقرار رکھے۔ ان کے مطابق وزیر خارجہ نے 4، وزیر دفاع اور آئی ایس آئی حکام نے 2، نمائندہ خصوصی نے 5، سیکرٹریز نے 5 اور نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر نے 1 مرتبہ کابل کا دورہ کیا۔
اسی دوران دونوں ممالک کے درمیان 8 جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی میٹنگز، 225 بارڈر فلیگ میٹنگز، 836 احتجاجی مراسلوں اور 13 ڈیمارشز کا تبادلہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کی درخواست پر سیز فائر کا آغاز، پاکستان کو پڑوسی ملک پر اعتبار نہیں، خواجہ آصف
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، جن میں مجموعی طور پر 3 ہزار 844 افراد (سول، فوجی اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار) شہید ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے 10 ہزار 347 واقعات رونما ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام قربانیوں اور کوششوں کے باوجود کابل سے مثبت جواب نہیں آیا، بلکہ اب افغانستان بھارت کی پراکسی کے طور پر پاکستان کے خلاف سازشوں میں ملوث دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردی کی جنگ بھارت، افغانستان اور ٹی ٹی پی نے مل کر پاکستان پر مسلط کی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ جن لوگوں کو کبھی پاکستان نے پناہ دی، وہی آج بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اب پاکستان ماضی کی طرح کابل کے ساتھ تعلقات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کا افغانستان سے براہ راست مذاکرات کا بیان وفاق پر حملہ ہے، خواجہ آصف
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں موجود تمام افغان شہریوں کو اب اپنے وطن واپس جانا ہوگا کیونکہ کابل میں ان کی اپنی حکومت قائم ہے۔ پاکستان کی سرزمین اور وسائل 25 کروڑ پاکستانیوں کی ملکیت ہیں، اور اب پچاس برس کی زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمے کا وقت آ گیا ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ خوددار قومیں دوسروں کے وسائل پر نہیں پلتی ہوتیں، اب احتجاجی مراسلے نہیں بلکہ عملی اقدامات ہوں گے۔ پاکستان میں کسی بھی دہشت گردی کے منبع کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور اگر کسی نے سرزمینِ پاکستان کے خلاف سازش کی تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغان طالبان افغانستان بھارت پاکستان پناہ گزین سیز فائر
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان طالبان افغانستان بھارت پاکستان پناہ گزین سیز فائر پاکستان کے خلاف کر پاکستان پاکستان نے خواجہ ا صف وزیر دفاع نے کہا کہ بھارت کی کے لیے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔