افغانستان پر جو بھی پالیسی ہو اس پر ہمیں اعتماد میں لیا جائے: وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی— فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے جو بھی پالیسی ہو اس پر ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔
پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے کسی کے خلاف نہیں لایا گیا، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے آیا ہوں، ہمارا ہر قدم قانون اور آئین کے مطابق ہو گا، پُرامن احتجاج کریں گے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے، گزشتہ حکومت میں ہم تھوڑے کمزور تھے، ہم عدالتوں میں جنگ لڑ رہے ہیں، انصاف نہ ملا تو احتجاج ہی کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو بھرپور جواب ملے گا، یہاں سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، 12 لاکھ اب بھی ہیں، باعزت طور پر بھجوائیں گے٬ افغان مہاجرین نے اتنا وقت یہاں گزارا تو باعزت واپس جائیں۔
سہیل آفریدی کافی عرصے تک انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پی کے صدر رہے، وہ موجودہ حکومت میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی کمیونی کیشن اینڈ ورکس رہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے پی نے کہا کہ میں حکومت چلانے نہیں تبدیلی کے لیے آیا ہوں، بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کا وقت نہ ملا تو کابینہ سے متعلق مشاورت کے لیے پارٹی سے بات کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے مجھے ٹارگٹ کیا گیا پھر آئینی عمل روکا گیا کیا یہ طریقہ ہے؟ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو اعتراضات دور کر کے پیر کو دوبارہ دائر کریں گے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ میرا فوکس امں و امان، ترقیاتی کاموں اور گڈ گورننس پر ہے، کابینہ کے اہل اور نااہل ارکان کے بارے میں بانیٔ پی ٹی آئی کو بتاؤں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔