وزیر اعلیٰ کے پی کے، جناب محمد سہیل آفریدی، نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہر جمعرات کو اڈیالہ آئیں گے اور دھرنا دیں گے، یہاں تک کہ اُن کی ملاقات بانی پی ٹی آ ئی سے ہو جائے۔ نوجوان وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی صاحب کے اِس اعلان میں اُن کا جوان عزم جھلکتا ہے۔
سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا کی سیاسی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعلیٰ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے ۔وہ ابھی صرف 36سال کی عمر ہی کے ہُوئے تھے کہ سی ایم کے خوابناک عہدے پر متمکن ہو گئے ۔ یہ ایک سیاسی کارکن کے لیے کامیابی کی معراج ہے ۔
انھوں نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی اعلان فرمایا تھا کہ اُن کے وزیر اعلیٰ بننے کا واحد مقصد اور ہدف ہی یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ زندان کے اندھیروں سے باہر نکالا جائے۔ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ کے تخت پر بیٹھے ہوئے6 ہفتے گزر چکے ہیں ،مگر وہ اپنے قائد اور بانی پی ٹی آئی کو جیل سے رہا کروانا تو درکنار، اُن سے ایک بار بھی ملاقات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جمعرات پیروں، فقیروں اور صوفیائے کرام کا دن ہے، اس لیے ممکن ہے کہ سہیل آفریدی کے تازہ اعلان میں جمعرات کے کارن کچھ برکت پڑجائے اور وہ اپنے قائد سے ملنے اور انھیں قید و بند کی بندشوں سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جائیں۔ یوں اُن کے اعلان کی شرم بھی رہ جائے گی۔
جناب سہیل آفریدی بحیثیتِ ایم پی اے، کے پی کے اسمبلی میں اسٹیبلشمنٹ اور شہبازحکومت پر مسلسل یوں گرجتے برستے رہے کہ پسِ دیوارِ زنداں بانی پی ٹی آئی کی بھرپور توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈا پور، بھی بانی صاحب کی آشیرواد ہی سے برسر اقتدار آئے تو آتے ہی اعلان کیا تھا کہ اُن کے وزیر اعلیٰ بننے کا واحد مقصد ہی یہ ہے کہ قید میں رکھے اپنے لیڈر کو باعزت جیل کی سلاخوں سے باہر لائیں۔19 ماہ اقتدار میں گزر گئے مگر علی امین اپنے اعلان میں مطلوبہ رنگ نہ بھر سکے۔ موصوف پر ’’دونوں طرف کھیلنے‘‘ کے الزامات بھی لگتے رہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ اُن پر بانی پی ٹی آئی کے اعتماد کی بنیادیں لرزنے لگیں؛چنانچہ ڈیڑھ ماہ قبل انھیں بانی صاحب کے حکم اور اشارے پر وزارتِ اعلیٰ سے سبکدوش کر دیا گیا۔سبکدوشی سے علی امین گنڈا پور کو کوئی بڑا سیاسی ، سماجی اور معاشی دھچکا نہ لگا کہ وہ اقتدار سے محروم کیے جانے کی بُو پہلے سے ہی سو نگھ چکے تھے؛ چنانچہ اقتدار سے نکلنے یا نکالے جانے کے بعد انھوں نے فِیل مچایا نہ کوئی واویلا کیا۔ چپکے اور دلیری کے ساتھ اقتدار سہیل آفریدی کے ہاتھ میں تھمایا اور امن کے ساتھ ڈی آ ئی خان پدھار گئے۔
سہیل آفریدی کی آمد اور علی امین کی رخصت سے سب پر ایک بار پھر عیاں ہو گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپنی پارٹی اور اپنے ’’ماتحت‘‘ ارکانِ اسمبلی پر گرفت کس قدر مضبوط ہے۔ بطوررکن اسمبلی سہیل آفریدی نے طاقتوروں کے خلاف بیانات کے بعض ایسے گولے داغے تھے کہ کہا جانے لگا تھا کہ انھیں وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پر نہیں بیٹھنے دیا جائے گا۔ کشمکش کے عجب ماحول میں مگر وہ سی ایم بن ہی گئے۔ اسمبلی میں اُن سے اختلاف کیا گیا نہ اُن کے خلاف کوئی فارورڈ بلاک بن سکا۔ یہ اُن کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔
وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی موصوف نے پہلا بڑا اعلان یہ کیا تھا کہ جب تک بانی صاحب سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی، وہ اپنی کابینہ نہیں بنائیں گے۔ مگر جب انھوں نے یہ دیکھا اور محسوس کیا کہ ہوائیں ناموافق اور ناسازگار ہیں تو وہ اپنے دبنگ اعلان سے دستکش بھی ہو گئے اور اپنی کابینہ بھی تشکیل دے ڈالی۔ یوں سہیل آفریدی صاحب پر پہلی بار یہ حقیقت روشن ہوئی کہ اپنے اعلان کی لاج رکھنا اتنا آسان بھی نہیں ہے، اور یہ بھی کہ جن کی مٹھی میں طاقتیں ہیں، اُن کے سامنے ضد اختیار کرنا دراصل دیوار سے سر پھوڑنے کے برابر ہے۔
کابینہ تشکیل دے کر انھوں نے حکمت و دانائی کا مظاہرہ کیا۔ ساتھ ہی مگر مخالفین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ کابینہ ترتیب دینا آفریدی صاحب کی پہلی پسپائی ہے۔ اب نئے حالات میں اُن کے دوسرے اعلان کی حقیقت بھی جلد ہی سامنے آجائے گی۔ پسِ دیوارِ زنداں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرنا پی ٹی آئی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا آئینی، اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ کوئی بھی اِس حق کی نفی نہیں کر رہا مگر اِس حق کے حصول کے لیے دباؤ اور دھونس کے جو حربے اور ہتھکنڈے بروئے کار لائے جا رہے ہیں، وہ شاید مناسب نہیں ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرگان اڈیالہ جیل کے باہر آئے روز دھرنا دیتی نظر آ رہی ہیں ۔
سڑکیں بلاک کر دی جاتی ہیں۔ عوام کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ سڑکیں بلاک کرنے اور دھرنا دینے والی ہمشیرگان کا مقصد بھی شاید یہی ہوتا ہے کہ عوامی پریشانی سے حکومت پر دباؤ بڑھے گا تو بھائی سے ملاقات کے لیے دروازے بھی کھل جائیں گے ۔سہیل آفریدی بھی پشاور سے اڈیالہ جیل آتے ہیں تاکہ ملاقات ہو جائے ۔
ساتھ ہی انڈین میڈیا اور افغان طالبان کے سوشل میڈیا ( جن کے ڈانڈے مبینہ طور پر بھارت ہی سے مل رہے ہیں) نے یہ درفنطنیاں چھوڑی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی ، خدانخواستہ، جیل میں بخیریت نہیں ہیں ۔ اِن سے متاثر ہو کر حتیٰ کہ سابق وزیر اعظم کی پوتی اور سابق وزیر اعظم کی بھتیجی ،محترمہ فاطمہ بھٹو، نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے : بانی پی ٹی آئی سابق وزیر اعظم ہیں، اُن سے ملاقات نہ کروانے کے لیے حکومت کو بہانے نہیں ڈھونڈنے چاہئیں۔
بانی پی ٹی آئی کی خیریت اور صحت سب کو عزیز ہونی چاہیے ۔ وہ قیدی ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اُن کے فیملی ممبرز، وکلا ، پارٹی وابستگان اور عشاق کو اُن کی خیر خیریت سے باقاعدہ آگاہ ہی نہ کیا جائے ۔ سہیل آفریدی صاحب اگر ایسے مشکوک اور مشتبہ ماحول میں بانی صاحب اور اپنے قائد سے ملاقات پر مُصر ہیں تو اِس میں بے جا عنصر کوئی کارفرما نہیں ہے۔ سہیل آفریدی شاید اِسی فرسٹریشن میں یہ کہنے پر مجبور ہُوئے ہیں کہ (۱) میرا پاسپورٹ بلاک کیا گیا ہے جب کہ ایک وزیر اعلیٰ کو سرکاری جہاز پر ملک سے باہر بھیجا گیا (۲) مجھے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے بھی ملنے سے انکار کر دیا (۳) مجھ سے اور میرے صوبے کے عوام سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔شکوؤں اور شکایات کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ۔دوسری جانب وفاقی وزرا بیانات پر بیانات دے رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی مکمل خیریت سے ہیں اور اڈیالہ ہی میں ہیں۔
ساتھ ہی وزیر اطلاعات سے منسوب یہ بیان بھی سامنے آیا ہے کہ’’ بانی سے ملاقات کرانے کا مطالبہ غیر قانونی ہے ۔‘‘ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تو بالآخر کروا ہی دی جائے گی کہ دباؤ متنوع ہیں ۔ سہیل آفریدی صاحب کو مگر شکوہ ہے کہ انھیں 8مرتبہ بانی صاحب سے ملاقات کروانے سے انکار کیا گیا ہے اور یہ ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی ’’صریح توہین ‘‘ ہے ۔ نون لیگی سینیٹر اور وزیر اعظم کے سیاسی مشیر، رانا ثناء اللہ، کا خصوصاً یہ کہنا کہ ’’نومبر کے مہینے میں پی ٹی آئی کے افراد کو بانی سے اس لیے لیے نہیں ملنے دیا گیا کہ یہ لوگ ایک بار پھر26نومبر دہرانے کا پروگرام بنا رہے تھے ۔‘‘
فریقین کے ایک دوسرے سے گلے شکوے اپنی جگہ اہم ہیں ۔ پی ٹی آئی کے کئی ’’اقدامات‘‘ کے پس منظر میں حکومت کو پی ٹی آئی کے لیڈروں سے جو شکایات ہیں، وہ بھی قابلِ نظر انداز نہیں ہیں ۔ مثال کے طور پر بانی پی ٹی آئی کی ایک ہمشیرہ کا انڈین میڈیا کو انٹرویو۔ اور پی ٹی آئی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی یہ غیر مبہم دھمکی کہ ’’جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کروائی جاتی ، پارلیمنٹ کو نہیں چلنے دیا جائے گا۔‘‘ کل منگل کے لیے عالیہ حمزہ کی دھمکی بھی موجود ہے۔ پارلیمنٹ کا کام البتہ نہیں رکے گا، مگر کہا جارہا ہے کہ اب دسمبر کے شروع ہوتے ہی بانی سے ملاقاتیں بھی شروع ہو جائیں گی کہ’’ نومبر کا موہوم خطرہ‘‘ بھی ٹل چکا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی سے ملاقات کہ بانی پی ٹی ا ئی بانی پی ٹی ا ئی کی سہیل ا فریدی صاحب پی ٹی ا ئی کے وزیر اعلی ملاقات نہ اعلان کی انھوں نے علی امین نہیں کر کے لیے تھا کہ
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز