بدین ، ڈینگی وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، شہر میں پریشانی کی لہر
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین (نمائندہ جسارت ) بدین میں ڈینگی وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے، جس کے باعث شہر میں خوف و پریشانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ڈاکٹر سکندر مندرہ اسپتال بدین میں صرف تین دن کے دوران 55 نئے مریضوں میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ متعدد مشتبہ مریض بھی زیرِ علاج ہیں کنسلٹنٹ فزیشن ڈاکٹر شاہنواز مزاری کے مطابق مچھروں کی افزائش میں اضافے نے اس وبا کو مزید شدت دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر اور گردونواح کے علاقوں میں گندے پانی اور کچرے کے ڈھیروں کی وجہ سے مچھروں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، اس لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ ڈاکٹر شاہنواز نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں، آنگنوں اور چھتوں پر پانی جمع نہ ہونے دیں، مچھر مار اسپرے کا استعمال کریں، پورے بازو والے کپڑے پہنیں، اور اگر بخار، جسم میں درد یا کمزوری محسوس ہو تو فوری طور پر اسپتال سے رجوع کریں۔ دوسری جانب شہریوں نے بلدیہ اور انتظامیہ پر غفلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وقت پر اسپرے نہ ہونے اور صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے ڈینگی کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی اور محکمہ صحت فوری طور پر مچھر مار مہم شروع کریں، گٹر نالیوں کی صفائی کو بہتر بنایا جائے، اور اسپتالوں میں ڈینگی کے علاج کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس وبا پر قابو پایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔