پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے گواے آئی ہب کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے اسلام آباد میں گو اے آئی ہب پاکستان کا افتتاح کردیا گیا ۔گو اے آئی ہب کا قیام ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینے کی سمت ایک تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جسے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سعودی کمپنی گو ٹیلی کام کے اشتراک سے شروع کیا گیا۔ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے اس اہم شراکت داری کو عمل میں لانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔ افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور سی ای او گو ٹیلی کام یحییٰ بن صالح المنصور نے شرکت کی۔ تقریب میں ایس آئی ایف سی کے سینئر حکام اور پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ یحیی بن صالح المنصور نے پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے طویل المدتی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ معاہدہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ ریاض کے دوران طے پانے والے معاہدوں کا ایک تسلسل ہے۔ تقریب میں مفاہمتی یادداشتوں میں ڈیٹا سینٹر، اے آئی انفراسٹرکچر اور ٹیلنٹ ہب کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ ایس آئی ایف سی اور وزارتِ آئی ٹی نے دوطرفہ ارادوں کو عملی شراکت داریوں میں بدلنے کی نئی مثال قائم کی۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے وژن کے تحت معرکہ حق نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔ پاکستان میں اے آئی ہب کے افتتاح سے اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی اپنی سروسز فراہم کر سکیں گے۔ اس منصوبے سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستانی طلبہ اور ماہرین کو مزید ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے سے اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اور سعودی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک