Nawaiwaqt:
2026-07-24@01:16:17 GMT

پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے گواے آئی ہب کا افتتاح 

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے گواے آئی ہب کا افتتاح 

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) پاکستان اور سعودی عرب کے اشتراک سے اسلام آباد میں گو اے آئی ہب پاکستان کا افتتاح کردیا گیا ۔گو اے آئی ہب کا قیام ڈیجیٹل تعاون کو فروغ دینے کی سمت ایک تاریخی پیش رفت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جسے وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن اور سعودی کمپنی گو ٹیلی کام کے اشتراک سے شروع کیا گیا۔ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل نے اس اہم شراکت داری کو عمل میں لانے کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔ افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ اور سی ای او گو ٹیلی کام یحییٰ بن صالح المنصور نے شرکت کی۔ تقریب میں ایس آئی ایف سی کے سینئر حکام اور پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔ یحیی بن صالح المنصور نے پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے طویل المدتی تعاون کے عزم کا اظہار کیا۔ معاہدہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ ریاض کے دوران طے پانے والے معاہدوں کا ایک تسلسل ہے۔ تقریب میں مفاہمتی یادداشتوں میں ڈیٹا سینٹر، اے آئی انفراسٹرکچر اور ٹیلنٹ ہب کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ ایس آئی ایف سی اور وزارتِ آئی ٹی نے دوطرفہ ارادوں کو عملی شراکت داریوں میں بدلنے کی نئی مثال قائم کی۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے  کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے وژن کے تحت معرکہ حق نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔ پاکستان میں اے آئی ہب کے افتتاح سے اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستانی اپنی سروسز فراہم کر سکیں گے۔ اس منصوبے سے پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پاکستانی طلبہ اور ماہرین کو مزید ترقی کے مواقع میسر آئیں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے سے  اربوں روپے کی سرمایہ کاری ہو گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اور سعودی

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت