اب ایک بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے 50 سے زیادہ اقسام کے کینسر کی تشخیص کی جاسکے گی۔

یہ بھی پڑھیںإ: بلوچستان میں بریسٹ کینسر تیزی سے پھیلنے لگا، ایک سال میں 5 ہزار کیسز سامنے آنے کی وجہ آخر کیا ہے؟

بی بی سی کے مطابق شمالی امریکا میں کیے گئے ایک تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ٹیسٹ مختلف اقسام کے کینسر کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن میں سے تین چوتھائی اقسام کے لیے فی الحال کوئی باقاعدہ اسکریننگ پروگرام موجود نہیں ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ آدھے سے زیادہ کیسز میں کینسر کی ابتدائی اسٹیج پر تشخیص ہو گئی جب علاج آسان اور کامیابی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

یہ ٹیسٹ گیلری کہلاتا ہے جو امریکی دوا ساز کمپنی گریل نے تیار کیا ہے۔ یہ خون میں موجود سرطان زدہ ڈی این اے کے ٹکڑوں کی شناخت کرتا ہے جو ٹیومر سے الگ ہو کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔

اس ٹیسٹ کو برطانیہ کا قومی ادارہ صحت این ایچ ایس بطور ٹرائل آزما رہا ہے۔

تحقیقی تفصیلات

اس تجربے میں امریکا اور کینیڈا کے 25،000 بالغ افراد نے ایک سال کے دوران حصہ لیا۔ ان میں سے ہر 100 میں سے تقریباً ایک کا ٹیسٹ مثبت نکلا۔ان مثبت نتائج میں سے 62 فیصد کیسز میں کینسر کی تصدیق ہو گئی۔

مزید پڑھیے: سروائیکل کینسر، لاعلمی سے آگاہی تک

تحقیقی ٹیم کے سربراہ و اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی میں ریڈی ایشن میڈیسن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نیما نبابیزادہ نے کہا کہ یہ ٹیسٹ کینسر کی اسکریننگ کے ہمارے طریقہ کار کو بنیادی طور پر بدل سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ کینسر کو زیادہ جلدی اس مرحلے پر شناخت کر سکتا ہے جب علاج کے کامیاب ہونے یا مکمل شفا پانے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

اہم نتائج

ٹیسٹ نے 99 فیصد سے زیادہ افراد میں درست طور پر کینسر کی عدم موجودگی کی تصدیق کی۔

اگر اسے بریسٹ، آنت، پھیپھڑوں اور سروائیکل کینسر کی موجودہ اسکریننگ کے ساتھ استعمال کیا جائے تو کینسر کی شناخت میں 7 گنا اضافہ ممکن ہے۔

75 فیصد ایسے کینسرز کی شناخت ہوئی جن کے لیے فی الحال کوئی اسکریننگ پروگرام موجود نہیں جن میں اووری (بیضہ دانی)، جگر، معدہ، مثانہ، لبلبہ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ٹیسٹ نے 90 فیصد کیسز میں درست طور پر کینسر کا منبع  بھی پہچان لیا۔

ماہرین کی رائے اور احتیاطی نوٹس

اگرچہ نتائج بہت حوصلہ افزا ہیں تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ ٹیسٹ کینسر سے اموات میں کمی کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں۔

انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ لندن کی پروفیسر کلئیر ٹرنبلکا کہنا ہے کہ ایسے رینڈمائزڈ اسٹڈیز کے ڈیٹا کی ضرورت ہے جن میں موت کی شرح کو بطور نتیجہ دیکھا جائے تاکہ پتا چلے کہ کیا یہ جلد تشخیص واقعی زندگی بچانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ ابتدائی نتائج یورپین سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کانگریس میں ہفتے کو برلن میں پیش کیے جائیں گے مگر مکمل تفصیلات تاحال کسی معتبر سائنسی جریدے میں شائع نہیں ہوئیں۔

این ایچ ایس کا بڑا تجربہ اور مستقبل کی امیدیں

برطانیہ میں این ایچ ایس کا 3 سالہ ٹرائل جس میں ایک لاکھ 40 ہزار مریض شامل ہیں اگلے سال مکمل ہو گا۔

اگر یہ کامیاب ہوا تو این ایچ ایس اس ٹیسٹ کو مزید 10 لاکھ افراد تک پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گریل کمپنی میں بائیوفارما کے صدر سر ہرپال کمار نے نتائج کو انتہائی متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر افراد کی کینسر سے اموات کی وجہ یہ ہے کہ ان کے کینسر بہت دیر سے دریافت ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس رجحان کو بدلا جائے اور کینسر کو جلد دریافت کیا جائے تاکہ مؤثر اور ممکنہ طور پر مکمل علاج کیا جا سکے۔

کینسر ریسرچ یو کے کے ناصر ترابی نے خبردار کیا کہ ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ایسے کینسرز کی زیادہ تشخیص سے بچا جا سکے جو درحقیقت نقصان دہ نہ ہوں۔

مزید پڑھیں: پھیپھڑوں میں چھپے کینسر کے ٹیومرز ڈھونڈنے والا روبوٹک آلہ کامیاب ثابت

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی نیشنل اسکریننگ کمیٹی کا کردار اس فیصلے میں بہت اہم ہو گا کہ آیا یہ ٹیسٹ این ایچ ایس میں مستقل طور پر شامل کیا جائے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلڈ ٹیسٹ سے کینسر کی تشخیص کینسر کینسر کی تشخیص.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلڈ ٹیسٹ سے کینسر کی تشخیص کینسر کینسر کی تشخیص کینسر کی تشخیص ایچ ایس کی شناخت اقسام کے کے کینسر یہ ٹیسٹ کہا کہ

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد