وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں سے دہشتگردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے،وزیر اعلیٰ کے پی کے
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی غلط پالیسیوں کے باعث صوبے میں ایک بار پھر دہشتگردی بڑھ رہی ہے جب کہ وفاقی حکومت ہمیں وار آن ٹیرر کے فنڈز سمیت آئینی حقوق سے محروم کر رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت صوبائی حکومت کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوا جس میں گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت، امن و امان کی صورتحال، انسدادِ بدعنوانی اور صوبائی انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے صوبے میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات، پراونشل ایکشن پلان پر عمل درآمد، پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر وزیراعلیٰ کو بریفنگ دی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں صوبے کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی اور پولیس نے دباؤ کے باوجود عوام کے ووٹ کی حفاظت کی۔
انہوں نے کہا کہ جن افسران نے عوام کا ساتھ دیا انہیں انعام دیا جائے گا، جبکہ جنہوں نے دباؤ کے سامنے سر جھکایا، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور عمران خان پارٹی کے تاحیات چیئرمین ہیں، لہٰذا حکومتی ایجنڈے پر عملدرآمد کرنا سرکاری مشینری کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی بدعنوان شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی، وہ روایتی انداز میں کام کرنے نہیں آئے بلکہ حقیقی تبدیلی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو محسوس ہو کہ انہوں نے درست فیصلہ کیا۔ انہوں نے ضم اضلاع کے لیے ٹرائبل میڈیکل کالج، ٹرائبل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز، سیف سٹی پراجیکٹ، شہید ارشد شریف یونیورسٹی آف انوسیٹیگیٹیو اینڈ ماڈرن جرنلزم اور پشاور ریوائیول پلان کے قیام کا اعلان کیا۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے فنڈز فوری طور پر جاری کیے جائیں تاکہ پولیس کو مزید مضبوط اور دہشتگردی کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئی بلٹ پروف گاڑیاں ناقص اور پرانی ہیں، جو کے پی پولیس کی تضحیک کے مترادف ہے، اس لیے انہیں واپس کیا جائے۔
بعد ازاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں پارلیمانی معاملات پر مشاورت کی گئی اور ارکان کو اجلاس میں بروقت شرکت کی ہدایت کی گئی۔ اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اور خواتین ارکانِ اسمبلی نے بھی وزیراعلیٰ سے علیحدہ ملاقاتیں کیں اور ایوان میں دہشتگردی کے خلاف پالیسی پر حکومت کے مؤقف کی حمایت کا عندیہ دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی حکومت کی گئی
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔