Al Qamar Online:
2026-07-24@05:53:18 GMT

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ایک حصہ کیوں گرایا؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ایک حصہ کیوں گرایا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس میں ایک بڑے تعمیراتی منصوبے کا آغاز کرتے ہوئے اس کا ایک حصہ منہدم کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حصے کو گرا کر ایک شاندار اور وسیع بال روم (Ballroom) تعمیر کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف سرکاری تقاریب، عشائیے اور بین الاقوامی مہمانوں کے اعزاز میں استقبالیہ پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اندرونی حصے میں جاری یہ تعمیراتی کام ٹرمپ کی ذاتی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت گرائے گئے حصے کا ملبہ ہٹایا جا چکا ہے اور نئی تعمیر کا ڈیزائن بھی حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بال روم وائٹ ہاؤس کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ ہال ہوگا، جہاں سینکڑوں مہمانوں کو بیک وقت مدعو کیا جا سکے گا۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں وضاحت کی کہ انہیں وائٹ ہاؤس کی تاریخی عمارت سے گہری وابستگی ہے اور وہ اس کے مرکزی حصے کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ توسیعی منصوبہ وائٹ ہاؤس کی شان میں اضافہ کرے گا اور اسے مزید دلکش بنائے گا۔

تاہم امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جس پیمانے پر یہ تعمیراتی کام کیا جا رہا ہے، اس سے خدشہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کی مرکزی عمارت بھی کسی حد تک متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ منصوبے کے نقشے میں عمارت کے اہم داخلی حصوں کے قریب توڑ پھوڑ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس کی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل