صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کا ایک حصہ کیوں گرایا؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کا ایک حصہ گرا دیا۔
امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر گرائے گئے حصے کا ملبہ ہٹا کر شایان شان بال روم (ballroom) بنایا جائے گا جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو ڈنر دیے جائیں گے۔
اس حوالے سے دیے گئے ایک بیان میں صدرٹرمپ کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی عمارت انہیں بہت پسند ہے اور اس تعمیر کے لیے وائٹ ہاؤس کا مرکزی حصہ توڑا نہیں جائے گا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ جس بڑے پیمانے پر تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ توڑ پھوڑ سے وائٹ ہاؤس کی مرکزی عمارت بھی متاثر ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وائٹ ہاو س
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔