پرندے بھی گاڑیوں کے رنگ دیکھ کر بِیٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، دلچسپ تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ دفتر جاتے ہوئے گاڑی صاف کر کے نکلیں تو کچھ ہی دیر میں پرندوں کی بِیٹ سے لتھڑی نظر آتی ہے؟ نئی تحقیق نے اس جھنجھلاہٹ بھرے راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔
گیراج اور پارکنگ سسٹم سے وابستہ کمپنی ایلن فیکٹری آؤٹ لیٹ کی تحقیق کے مطابق پرندے بھی انسانوں کی طرح گاڑیوں کے کچھ خاص رنگوں کو ترجیح دیتے ہیں مگر ٹوائلٹ کے طور پر۔ امریکا میں کیے گئے اس سروے میں ایک ہزار ڈرائیورز سے معلومات اکٹھی کی گئیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ پرندوں کے نشانے پر سب سے زیادہ کون سی گاڑیاں آتی ہیں۔
نتائج حیران کن نکلے۔ براؤن، سرخ اور سیاہ رنگ کی گاڑیاں سب سے زیادہ پرندوں کی بِیٹ کا شکار بنتی ہیں، جبکہ سفید، سلور اور گرے گاڑیاں نسبتاً محفوظ رہتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق پرندے رنگوں کو انسانوں سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں اور ان کی آنکھیں الٹرا وائلٹ روشنی کو بھی پہچان سکتی ہیں، اس لیے بعض رنگ ان کے لیے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا میں پرندے مخصوص گاڑیوں جیسے ٹیسلا، پک اپ ٹرک اور ڈاج کو نشانہ بنانے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 29 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ پرندے ان کی گاڑی کو “جان بوجھ کر” نشانہ بناتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پارکنگ کا انتخاب بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گاڑی درخت کے نیچے یا بجلی کی تاروں کے قریب کھڑی ہو تو پرندوں کے لیے وہ ہدف بن جاتی ہے یوں سمجھیں کہ پرندوں کے نزدیک وہ جگہ ان کا “بیت الخلا زون” بن جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔