Jasarat News:
2026-07-24@05:28:26 GMT

بہار اسمبلی انتخابات۔ مودی کا وقار دائو پر

اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251023-03-3
2
افتخار گیلانی
سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی گو کہ نیتیش کے سہارے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے، مگر نتائج کے بعد ان کو کنارے کرنے کے امکانات بھی ڈھونڈ رہی ہے، جس طرح اس نے مہاراشٹرہ میں شیو سینا کے سہارے ووٹ تو لیے مگر پھر ان کو دودھ میں مکھی کی طرح قیادت سے باہر نکال دیا۔ بی جے پی، چونکہ تاریخی طور پر اونچی ذات کی پارٹی رہی ہے، اس لیے وہ ذات پات کی سیاست سے پرہیز کرتی رہی ہے۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہندو اتحاد کے نعرے کے ساتھ ساتھ بی جے پی نے ذاتوں کو اپنے بیانیے میں سمو لیا ہے۔ وہ اب ذات پات کو مٹانے کی نہیں، بلکہ اس کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ پارٹی نے بہار کے ایک سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی کرپوری ٹھاکر کو اعلیٰ ترین سویلین ایوارڈ بھارت رتن دے کرای بی سی طبقے میں رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طبقہ کے لیے قرض معافی، اور دیہی روزگار پروگراموں میں ترجیحی حصہ دیکر وہ اس طبقہ میں ایک طرح کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف راشٹریہ جنتا دل، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد جس کو عظیم اتحاد یا مہا گٹھ بندھن کہتے ہیں ظاہری طور پر ذات پات کی بیداری کا سب سے فطری وارث تھا۔ مگر اندر سے اس اتحاد کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔ حکومت کے خلاف ناراضی کا فائدہ اٹھانے کی اس کی کوششیں نشستوں کی تقسیم کی لڑائی میں دب گئی ہے۔ لگتا ہے کہ اس کے پاس ووٹر ہے مگر وژن نہیں۔ اس اتحاد کی کلیدی پارٹی راشٹریہ جنتا دل کا ووٹ بینک مسلم اور یادو یعنی ایم وائی رہا ہے۔ اس کے لیڈر تیجسوی یادو اگرچہ پرعزم دکھائی دیتے ہیں، مگر پرانے یادو لیڈران کی نوجوان قیادت پر کھلے عام اعتماد نہیں کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے ووٹ بینک میں مودی نے بھی سیندھ لگائی ہے، اس لیے وہ بھی اب دلتوں اور ای بی سی طبقات کے امیدوار کھڑے کرکے ووٹ بینک کی بھر پائی کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس جو پچھلے تین انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کا کمزور کڑی سمجھی جاتی تھی، اس بار قدرے جارح دکھائی دے رہی ہے۔ مگر اس کی زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر لڑنے کی چاہت ہی اس کو ڈبونے کا سامان کرسکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق کانگریس نظریاتی طور پر بیدار ضرور ہوئی ہے، مگر تنظیمی سطح پر اب بھی سست ہے۔ بہار کی زمین پر لڑائی بیانیہ سے زیادہ نیٹ ورک سے لڑی جاتی ہے۔ اس میدان میں بی جے پی سب سے مضبوط ہے۔ بہار میں مسلمان آبادی کا 17.

7 فی صد ہیں، مگر ان کی نمائندگی اسمبلی میں 8 فی صد سے بھی کم رہی ہے۔ ان انتخابات میں بی جے پی نے کسی مسلمان امیدوار کو نامزد نہیں کیا۔ جبکہ اس کے پاس سابق مرکزی وزیر شاہ نواز حسین کی صورت میں ایک مضبوط امیدوار موجود تھا۔ کانگریس اور جنتا دل یونائٹڈ نے صرف چار چار مسلمانوں کو ٹکٹ دیے۔ کٹیہار، ارریہ، پورنیہ اور کشن گنج کے اضلاع میں 40 فی صد سے زیادہ مسلمان ووٹر ہیں۔ یہ احساس اب مسلمانوں کو گھر کرتا جا رہا ہے کہ وہ صرف گنتی میں ہیں، قیادت میں نہیں۔ اسی خلا کو حیدر آباد کے رکن پارلیمان اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین اور ایک نئی جماعت پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی پور ا کرنے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اویسی نے اس بار 100 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، جن میں زیادہ تر مسلم اکثریتی حلقے شامل ہیں۔ اسی طرح بی جے پی کے اتحادی چراغ پاسوان 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 29 نشستیں جیت کر بہار کی سیاست میں مرکزی کردار بن چکے ہیں۔ ان کا نعرہ ’’بہار فرسٹ، بہاری فرسٹ‘‘ ریاستی وقار کا نیا استعارہ ہے۔ چراغ خود کو ’’دلت نوجوان قیادت‘‘ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ بی جے پی انہیں نیتیش کے خلاف توازن کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان انتخابات کی ایک نئی انٹری پرشانت کشور کی ہے، جو ماضی میں کئی پارٹیوں کے لیے انتخابی حکمت عملی کار کے بطور کام کر چکے ہیں۔ اب وہ خود ہی سیاست میں اتر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’ہم اقتدار کے لیے نہیں، نظام بدلنے کے لیے سیاست میں آئے ہیں‘‘۔ اگر وہ تین سے پانچ فی صد ووٹ بھی حاصل کرلیں، تو یہ بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو ہی نقصان کریگا۔ کورونا وبا کے دوران بہار کے لاکھوں مزدور بغیر روزگار اور بغیر مدد کے واپس لوٹے۔ یہ تجربہ ان کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکا ہے۔ پرشانت کشور نے انہیں اپنی سیاست کا مرکز بنادیا ہے۔ ان کے جلسوں میں سب سے زیادہ نعرہ گونجتا ہے: ’’ہمیں فرقہ واریت نہیں، کام چاہیے۔ ہمیں وعدے نہیں، روٹی چاہیے‘‘۔ یہ وہ زبان ہے جس نے نوجوانوں اور مزدوروں کو ایک پلیٹ فارم پر جوڑ دیا ہے۔ روزی، عزت، حصہ داری کے نعرے دیہاتوں میں سنائی دینے لگے ہیں۔ تجزیہ کارو ں کا کہنا ہے کہ یہ ایک نیا بہار ہے، جو خالی وعدوں سے اب شاید نہیں چلے گا۔ بی جے پی کے لیے یہ الیکشن اس کے ہندتوا نظریے کی بقا کا سوال ہے۔ پارٹی کے اندر خود کئی سطحوں پر بے چینی ہے۔ ایک طرف اتر پردیش ماڈل کا دبائو ہے۔ جہاں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہندو قوم پرستی اور مسلمانوں کے تئیں نفرت نے ان کو انتخابی کامیابی دلا دی۔ دوسری طرف بہار میں وہی فارمولا ذات پات کے پیچیدہ نظام کی وجہ سے ناکام ہو رہا ہے۔ فرنٹ لائن جریدہ کے مطابق بی جے پی ہر ذات کو اپنی الگ پالیسی سے جوڑ رہی ہے، تاکہ انہیں اجتماعی شناخت کے بجائے انفرادی مفادات میں الجھایا جا سکے۔ پارٹی کے تھنک ٹینک کا ماننا ہے کہ اگر 112 ذیلی ذاتیں اپنے اپنے مفاد میں مصروف رہیں، تو کوئی ایک متحد سیاسی بیانیہ اونچی ذاتوں کے خلاف نہیں بن سکے گا۔ اسی حکمت کے تحت بی جے پی ہر ذات کے لیے الگ ’’وعدوں کی فہرست‘‘ جاری کر رہی ہے۔ مثلاً کشواہا برادری کے لیے کرپوری ٹھاکر یوجنا، ملاحوں کے لیے گنگا متسیا سکھ شکتی اسکیم، اور بھومیہار طبقے کے لیے کسان کرج راحت پیکیج۔ ان کی وجہ سے ہر برادری انفرادی طور پر فیصلہ کریں گے۔ مگر سوال یہ ہے کیا بہار کے باشعور ووٹر اس حکمت عملی کے آگے جھکیں گے؟ (بشکریہ: 92 نیوز)

سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سے زیادہ بی جے پی چکے ہیں ذات پات کے لیے رہی ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن