بہار اسمبلی انتخابات کیلئے مجلس اتحاد المسلمین کی پہلی فہرست جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اے آئی یم آئی ایم نے پہلے 100 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا عزم کیا تھا، لیکن اب 25 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے، اس فہرست میں دو غیر مسلم امیدوار بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست بہار کے اسمبلی انتخابات 2025 کے لئے مختلف اتحادیوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر رسہ کشی جاری ہے۔ دریں اثنا اسد الدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) جس نے عظیم اتحاد کی جانب سے مسترد کئے جانے پر بہار انتخابات میں 100 سیٹوں پر انتخابات لڑنے کا عزم ظاہر کیا تھا، نے اتوار کو 25 امیدواروں کا اعلان کیا، جن میں دو غیر مسلم امیدوار بھی شامل ہیں۔ اس فہرست میں اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اختر الایمان اور بہار میں پارٹی کے اکلوتے ایم ایل اے کا نام شامل ہے۔
اے آئی یم آئی ایم نے پہلے 100 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا عزم کیا تھا، لیکن اب 25 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس فہرست میں دو غیر مسلم امیدوار بھی شامل ہیں۔ سکندرا کی محفوظ نشست سے منوج کمار داس کو ٹکٹ دیا گیا ہے اور ڈھاکہ حلقے سے رانا رنجیت سنگھ کو میدان میں اتارا گیا ہے، جو بی جے پی کے سابق وزیر کے بھائی ہیں۔ زیادہ تر امیدوار سیما نچل علاقے سے ہیں، جہاں مسلم آبادی کی کثیر تعداد ہے۔ یہ علاقہ سیلاب سے متاثر رہتا ہے اور یہاں کے لوگ اکثر نظر انداز کئے جاتے ہیں۔ اے آئی یم آئی ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ بہار کے کمزور اور نظرانداز شدہ لوگوں کی آواز بنے گی۔
اے آئی یم آئی ایم نے انڈیا بلاک میں شامل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن آر جے ڈی کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا۔ گزشتہ انتخابات میں پارٹی نے 19 نشستوں پر مقابلہ کیا اور 5 پر فتح کا پرچم لہرایا تھا، لیکن بعد میں 4 ایم ایل اے آر جے ڈی میں شامل ہو گئے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے شوٹر رہ چکے محمد کیف عرف بُنٹی کو اپنا امیدوار بنایا۔ اسد الدین اویسی نے سیوان اسمبلی سیٹ سے شہاب الدین کے شوٹر رہ چکے محمد کیف عرف بُنٹی کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ یہ وہی محمد کیف ہیں جن پر 2016ء میں صحافی راج دیو رنجن کے قتل کا الزام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اے ا ئی یم ا ئی ایم ئی ایم نے آئی ایم
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔