سپریم کورٹ: عمر ایوب اور شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف اپیلیں 27 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں عمر ایوب خان اور شبلی فراز کی نااہلی کے خلاف دائر اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کر لیا ہے۔
یہ اپیلیں 27 اکتوبر کو سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ کے روبرو سماعت کے لیے پیش ہوں گی۔
عدالتی فہرست کے مطابق، جسٹس امین الدین خان بینچ کی سربراہی کریں گے، جبکہ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس شکیل احمد بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:
واضح رہے کہ عمر ایوب اور شبلی فراز نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات میں سزا کے بعد اپنی نااہلی کو چیلنج کر رکھا ہے۔
قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے دونوں رہنماؤں کی اپیلیں اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار دی تھیں کہ انہوں نے سرینڈر نہیں کیا تھا۔
اب سپریم کورٹ ان اپیلوں کی سماعت کرے گی اور اس دوران یہ طے کیا جائے گا کہ کیا دونوں رہنما اپنی نااہلی کے خلاف اپیل کے حق دار ہیں یا نہیں۔
مزید پڑھیں:
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور سینیٹرشبلی فراز کی نااہلی کا تعلق 9 مئی 2023 کے واقعات سے ہے، جب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
ان مظاہروں کے دوران مختلف سرکاری و عسکری تنصیبات پر حملے کیے گئے، جن میں ملوث ہونے کے الزامات پر دونوں رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔
مزید پڑھیں:
بعد ازاں انسداد دہشتگردی عدالتوں نے انہیں مختلف مقدمات میں سزا سنائی، جس کے نتیجے میں وہ عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار پائے۔
دونوں رہنماؤں نے اپنی نااہلی کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، تاہم عدالت نے ان کی اپیلیں اس بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار دی تھیں کہ انہوں نے سرینڈر نہیں کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی بینچ تحریک انصاف جسٹس امین الدین خان سپریم کورٹ شبلی فراز عمر ایوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف جسٹس امین الدین خان سپریم کورٹ شبلی فراز عمر ایوب سپریم کورٹ شبلی فراز عمر ایوب کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔