امریکی نائب صدر جے ڈی وینس محض ایک ہفتے میں تیسری بار اسرائیل کے دورے پر پہنچے ہیں تاکہ نیتن یاہو کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھ سکیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نائب صدر کے حالیہ دورے کا مقصد غزہ جنگ بندی پر عمل درآمد کی رفتار کا جائزہ لینا بھی ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی معاونت کو آج امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اسرائیل پہنچ گئے جب کہ صدر ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے مشیر جیرڈ کُشنر پہلے ہی موجود ہیں۔

امریکی وفد نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ غزہ کے لیے کوئی بلان بی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا پیغام لیکر پہنچنے والے امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر واضح کیا کہ جو ممالک غزہ میں اپنی فوج بھیجیں گے، اس کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا کہ اسرائیل اب مغربی کنارے کے کسی بھی ایک علاقے کو اپنی ریاست میں ضم نہیں کرے گا۔

مارکو روبیو نے اسرائیلی حکام کو ہدایت کی ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ غزہ جنگ بندی کا اگلا مرحلہ مزید عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کا ابراہیمی معاہدہ بن سکتا ہے۔

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ حماس کو ہر صورت اسلحہ پھینکنا ہوں گے۔ انھیں غیر مسلح کیے بغیر امن ممکن نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اونرا میں حماس کے کارکن یا حمایتوں کی بھرتیوں کا الزام بھی عائد کیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس بنیاد پر اونرا کو غزہ میں خوراک کی تقسیم کے کسی مرحلے میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کی ثالثی اور قطر و مصر کی ضمانتوں پر غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر سے نافذالعمل ہے۔

جس کے تحت حماس نے تمام زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کردیا جب کہ مردہ یرغمالیوں کی لاشوں کی حوالگی کا سلسلہ جاری ہے۔

جس کے بدلے میں اسرائیل نے بھی ہزار سے زائد فلسطینی قیدیوں کو جیل سے رہا کیا اور متعدد فلسطینیوں کی میتیں بھی حوالے کی ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی وزیر خارجہ نے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل