ایک جانب شہر میں ہیوی گاڑیوں کے ناتجربہ کار ڈرائیور شہریوں کو روند کر انہیں زندگی سے محروم کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ٹریفک پولیس کا زور صرف موٹر سائیکل اور کار سوار عام شہریوں پر ہی چل رہا ہے، جنہیں تمام قوانین کی پاسداری کی ہدایت کی جاتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کی سڑکوں پر ہیوی اور دیگر گاڑیوں سے ہونے والے جان لیوا ٹریفک حادثات میں رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 697 افراد زندگی سے محروم ہوگئے اور 10 ہزار 400 سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے، جبکہ ٹریفک پولیس کے افسران کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ہیوی ٹریفک شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رواں سال اب تک ڈمپروں اور ٹریلر سمیت ہیوی گاڑیوں نے 205 گھروں کے چراغ گل کر دیئے، جس میں سب سے زیادہ 78 جان لیوا حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے۔ ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک جان لیوا ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 697 افراد لقمہ اجل بن گئے، جس میں 537 مرد، 72 خواتین، 67 بچے اور 21 بچیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹریفک حادثات کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 404 افراد زخمی بھی ہوئے، جس میں 8137 مرد، 1616 خواتین، 499 بچے اور 152 بچیاں شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ شہر قائد میں 297 روز میں اب تک ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے جان لیوا حادثات میں مجموعی طور پر 205 افراد زندگی سے محروم ہوگئے، جس میں ٹریلر کی ٹکر سے 78، واٹر ٹینکر کی ٹکر سے 46، ڈمپر کی ٹکر سے 36، بس کی ٹکر سے 27 افراد اور مزدا کی ٹکر سے 18 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایک جانب شہر میں ہیوی گاڑیوں کے ناتجربہ کار ڈرائیور شہریوں کو روند کر انہیں زندگی سے محروم کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ٹریفک پولیس کا زور صرف موٹر سائیکل اور کار سوار عام شہریوں پر ہی چل رہا ہے، جنہیں تمام قوانین کی پاسداری کی ہدایت کی جاتی ہے۔ دوسری جانب واٹر ٹینکرز، کوچز، منی بسیں، بسیں اور رکشوں سمیت دیگر ہیوی گاڑیاں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہر میں دنداناتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زندگی سے محروم افراد زندگی سے ٹریفک حادثات ہیوی گاڑیوں حادثات میں کی ٹکر سے جان لیوا رواں سال

پڑھیں:

جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔

دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔

واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔

مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا

متعلقہ مضامین

  • پہاڑوں پر برف پگھلنے سے دریا کمراٹ کے بہاؤ میں اضافہ، صورتحال خطرناک ہونے لگی
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی