کراچی؛ ٹریفک حادثات میں رواں سال 697 افراد زندگی سے محروم ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
کراچی:
شہر کی سڑکوں پر ہیوی اور دیگر گاڑیوں سے ہونے والے جان لیوا ٹریفک حادثات میں رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 697 افراد زندگی سے محروم ہوگئے اور 10 ہزار 400 سے زائد شہری زخمی بھی ہوئے جبکہ ٹریفک پولیس کے افسران کے بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود ہیوی ٹریفک شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق رواں سال اب تک ڈمپروں اور ٹریلر سمیت ہیوی گاڑیوں نے 205 گھروں کے چراغ گل کر دیے، جس میں سب سے زیادہ 78 جان لیوا حادثات ٹریلر کی ٹکر سے پیش آئے۔
ترجمان چھیپا فاؤنڈیشن کے مطابق رواں سال کے دوران اب تک جان لیوا ٹریفک حادثات میں مجموعی طور پر 697 افراد لقمہ اجل بن گئے، جس میں 537 مرد، 72 خواتین، 67 بچے اور 21 بچیاں شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹریفک حادثات کے دوران مجموعی طور پر 10 ہزار 404 افراد زخمی بھی ہوئے جس میں 8137 مرد ، 1616 خواتین ، 499 بچے اور 152 بچیاں شامل ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ شہر قائد میں 297 روز میں اب تک ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے جان لیوا حادثات میں مجموعی طور پر 205 افراد زندگی سے محروم ہوگئے جس میں ٹریلر کی ٹکر سے 78، واٹر ٹینکر کی ٹکر سے 46، ڈمپر کی ٹکر سے 36، بس کی ٹکر سے 27 افراد اور مزدا کی ٹکر سے 18 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایک جانب شہر میں ہیوی گاڑیوں کے ناتجربہ کار ڈرائیور شہریوں کو روند کر انہیں زندگی سے محروم کر رہے ہیں تو دوسری جانب ٹریفک پولیس کا زور صرف موٹر سائیکل اور کار سوار عام شہریوں پر ہی چل رہا ہے جنہیں تمام قوانین کی پاس داری کی ہدایت کی جاتی ہے۔
دوسری جانب واٹر ٹینکرز، کوچز، منی بسیں، بسیں اور رکشوں سمیت دیگر ہیوی گاڑیاں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شہر میں دنداناتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زندگی سے محروم افراد زندگی سے ٹریفک حادثات حادثات میں کی ٹکر سے جان لیوا رواں سال
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔