عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ خطرے میں، حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا
میڈیا رپورٹ کے ماطبق یہ درخواست شہری غلام مرتضیٰ کی جانب سے وکیل بیرسٹر ظفراللہ کے توسط سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ عمران خان کے اکاؤنٹ سے غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی ٹوئٹس شیئر کی جا رہی ہیں، جنہیں ہٹایا اور بلاک کیا جائے۔
درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ دورانِ قید عمران خان کے اکاؤنٹ سے مبینہ انتشاری پوسٹس پھیلانے سے روکا جائے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر 4 نومبر کو اس درخواست پر سماعت کریں گے، جس کے لیے رجسٹرار آفس نے کاز لسٹ جاری کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عمران خان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے اشتعال انگیز پوسٹیں غیرقانونی قرار دینے کے لیے درخواست دائر
عدالت نے عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر رکھا ہے، جب کہ نیشنل سائبر کرائم ایجنسی، سپرنٹنڈنٹ جیل اور دیگر فریقین سے بھی تحریری جواب مانگا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ ایکس اکاؤنٹ عمران خان عمران خان ایکس اکاؤنٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ہائیکورٹ ایکس اکاؤنٹ عمران خان ایکس اکاؤنٹ ایکس اکاؤنٹ کے لیے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔